Sipraworld4all

ایک سوال – One question

One question. Is fashion show allowed in Saudi Arabia ?

ایک سوال
One question

One question

یوں تو بے شمار سوال ہیں جو جواب طلب ہیں. لیکن ایک سوال ایسا ہے جس کا جواب ملنا انتہاری ضروری ہے. میں اسے سب سے پہلے نمبر پر رکھوں گا. ان سوالوں کے جواب سے ہم اندازہ لگا سکیں گے کہ ملک کے عوام کی ترجیحات کیا ہیں. کون سا کام وہ سب سے پہلے کرنا چاہتے ہیں. ہم ایک بُحرانی دور سے گذر رہے ہیں. ایک سیاسی پارٹی اپنے ملک دشمن ایجنڈے پر عمل پیرا ہے. اللہ تعالے پم پر رحم فرماےُ.

عنوانات

سوال نمبر 1 – ملک کا دُشمن کون ہے ؟
سوال نمبر 2 – ہم کسی ایک ایجنڈے پر متفق کیوں نہیں ہوتے ؟
سوال نمبر 3 – ملک میں بد اخلاقی کون پھیلا رہا ہے ؟
سوال نمبر 4 – صنف نازک کا استحصال کیسے بند ہو ؟
سوال نمر 5- دیرینہ دُشمنیاں کیسے ختم ہوں ؟
سوال نمبر6- خاندانی اور جایُداد کی دشمنیاں کیسے ختم ہوں ؟

سوال نمبر 1- ملک کا دُشمن کون ہے ِ؟

کسی ملک دشمن کے چہرے پر لکھا نہیں ہوتا کہ یہ شخص ملک کا دشمن ہے.
ملک دشمن کو پہچاننے کے لیےُ ایک پیمانہ مقرر کیا جا سکتا ہے. ملک دشمن کو اس پیمانے پر جانچیےُ. اگر کویُ شخص اس پیمانے پر پُورا اُترتا ہے تو اس کے ملک دشمن ہونے میں کویُ شک نہیں. ہم یہاں صرف کسی مُلک کے دشمن کو پہچاننے کے پیمانہ پر بحث کریں گے. کسی شخص کے کاموں، تقاریر، طرز عمل ، گفتگو اور چال چلن کا جایُزہ لیجییےُ. ملک دشمن کو ڈھونڈنے کے لیےُکسی شخص میں یہ بُرایُاں تلاش کریں:

نمبر 1- کیا وہ جھوٹ بولتا ہے ؟
نمبر 2- کیا وہ امانت میں خیانت کرتا ہے ؟
نمبر 3 – کیا اس کے قول و فعل میں تضاد ہے ؟
نمبر 4- – کیا اس نے کبھی حکومت پر تنقید کی ہے ؟
نمبر 5 – کیا اس کے دوستوں میں لفنگے لوگ بھی ہیں ؟
نمبر 6 – کیا اس کی دہشت گردوں سے جان پہچان ہے ؟
نمبر 7 – کیا اس نے کویُ سیاسی پارٹی بنایُ ہے ؟
نمبر 8 – کیا اس کی پارٹی کو دوسرے ممالک سے مالی امداد ملتی پے؟ خصوصآ ان ممالک سے جن کی نظروں میں ہمارا ملک کھٹکتا ہے .
نمبر 9 – کیا وہ جھوٹا پراپیگنڈا کرتا ہے ؟
نمبر 10- کیا وہ دکھاوے کے لیےُ مذہب کواستعمال کرتا ہے ؟
نمبر 11- کیا وہ عوام کا اخلاق بگاڑنے کے پروگرام پر عمل پیرا ہے ؟
نمبر 12- اگر اسے حکومت ملی ہو تو کیا اس نے ناجایُز مالی فایُدے اُٹھاے ُ؟
نمبر 13- اگر اسے حکومت ملی ہو تو کیا اس کے مصاحبوں میں یا مشورہ دینے والوں میں کچھ فراڈیےُ بھی شامل تھے ؟
نمبر 14 – حکومت ختم ہو جانے کے بعد کیا اس نے ملک کی سلامتی کے خلاف یا ملک کو بدنام کرنے والے کچھ اقدامات کیےُ؟ یا بیانات دیے ؟
نمبر 15- حکومت ختم ہونے کے بعد کیا اس نے ملکی ترقی کے لیےُ کوششیں کیں؟ یا اچھے مشورے دیےُ ؟
نمبر 16 – کیا وہ حکومت کے ہر کام ( اچھے یا بُرے ) پر تنقید کرنا کار ثواب سمجھتا ہے ؟
نمبر 17 – کیا کبھی اس نے حکومت کو کویُ مفید مشورہ دیا ؟
نمبر 18- پارلیمنٹ یا قومی اسمبلی میں کیا وہ حکومتی ارکان کی تجاویز یا تقریر کے وقت خاموشی سے سُنتا ہے یا اپنی پارٹی ممبران کے ہمراہ شور شرابہ کرتا، ڈیسک بجاتا ، ہوٹنگ کرتا ، باجے بجاتا ، اپنے سارے ممبران کے ہمراہ بد تہذیبوں اور جاہل لوگوں جیسا مظاہرہ کرتا ہے .؟
نمبر 19- کیا اس نے ملک کی بہتری کے لیےُ کبھی کویُ تجویز پیش کی ہے ؟ یا کویُ اچھا کام کیا ہے ؟

کسی شخص میں ،مندرجہ بالا “خوبیاں ” پایُ جاییُں تو اس شخص کے ملک دشمن ہونے میں کویُ شک و شبہ نہیں. ہمیں ایسے اشخاص پر نظر رکھنی چاہییےُ ، اور ان کی چکنی چُپڑی باتوں پر دھیان نہ دیں. بد قسمتی سے ہمارے مُلک کے اکثر لوگ لکھے پڑھے ان پڑھ ہیں. اور انہیں دھوکا دینا بہت آسان ہے. ایسے لوگ طاقتور لوگوں کو اپنے ساتھ ملاےُ رکھتے ہیں. نہت زیادہ باتیں کرنے والے اور زیادہ بولنے والے جو روانی سے جھوٹ بول سکتے ہوں ان کے لیےُ ہیروں سے زیادہ قیمتی ہوتے ہیں، خصوصآ آٹی ٹی کے ماہر، جو جعلی آیُ ڈی بنا کر ان کے مخالفین کا سوشل میڈیا پر بیہودہ مذاق اُڑاتے ہیں. جعلی خبریں چلاتے ہیں.

ایسے لوگ ًمحب وطن کا جعلی چولا پہن کر عوام کا ہیرو بننے کی کوشش کرتے ہیں ، اور جاہل لوگ اسے اپنا نجات سہندہ سمجھنے لگتے ہیں. ایسی کالی بھیڑوں سے ہوشیار رہییےُ.

ہم کسی ایک ایجنڈے پر متفق کیوں نہیں ہوتے ؟

اپنے ملک میں بے شمار سیاسی پارٹیاں موجود ہیں، اور ہر سیاسی پارٹی کاایجنڈہ علیحدہ ہے.  سب سیاسی پارٹیوں کا اصل مقصد حکومت ہر قبضہ کرنا ہے. جب کویُ سیاسی پارٹی حکومت بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو وہ اپنے منشور سے ہٹ جاتی ہے. اور اپنی پارٹی کے طاقتور لوگوں کو اعلے عہدے تقسیم کرنا شروع کر دیتی ہے. ملک کی ترقی اُن کی نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے. ملک پر وزیروں اور مشیروں کا بوجھ لاد دیا جاتا ہے. اب بھلا وزیروں کو مشیر رکھنے کی کیا ضرورت ہے ؟ مشیر رکھنے کا مطلب ہے کہ وزیر میں کسی مسلہ کو سلجھانے یا حل کرنے کی اہلیت نہیں.

اگر کسی ایک سیاسی جماعت کی حکومت بنتی ہے ، تو دوسری سیاسی جماعتیں حکومت کے خلاف اتحاد بنا لیتی ہیں ، اور حکومت کی چھُٹّی کرانے کی کوششوں میں لگ جاتی ہیں. حکومت اپنے آپ کو زندہ رکھنے کے لیےُ جد و جہد کرتی ہے اور اس طرح ملکی ترقی کا ایجنڈا پس پُشت چلا جاتا ہے.

ہم کسی ایک ایجنڈے پر متفق کیوں نہیں پوتے ؟ ہر سیاسی جماعت کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اقتدار میں آےُ. اس کے لیےُ وہ کوشش کرتی ہے. ہر سیاسی جماعت کا اپنا ایجنڈا ہوتا ہے، اس طرح کسی ایک ایجنڈے پر متفق ہونا سیاسی جماعتیں اسے اپنی موت سمجھتی ہیں. اس انتہایُ ضرورت کے لیےُ میرے خیال میں ملک میں صرف دو سیسی پارٹیاں ہونی چاہییُں. برطانیہ اور امریکہ میں صرف دو دو سیاسی پارٹیاں ہیں. چین میں صرف ایک سیاسی پارٹی ہے. ذیادہ سیاسی پارٹیوں کی موجودگی میں ہم کسی ایک بات پر متفق نہیں ہو سکتے. ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک میں صرف دو سیاسی پارٹیاں ہوں. اس طرح بھانت بھانت کے لوگ شور نہ مچا سکیں گے.

مُلک میں بد اخلاقی کون پھیلا رہا ہے ؟

دو ہزار چودہ سن عیسوی سے پہلے تک ملک کا معاشرہ معقول حد تک ” صحتمند ” تھا. لوگ ایک   دوسرے  کا احترام کرتے تھے، خواتیں کا لباس پردے والا ہوتا تھا، اور خواتین کا احترام کیا جاتا تھا . پھر ایک سیاسی جماعت نے قوم کا اخلاق بگاڑنے کے لیےُ ایک منظم مہم شروع کی . اس کے لیےُ سوشل میڈیا کو استعمال کیا. خواتین کے ذہنوں میں یہ ڈالا گیا کہ آپ لوگ غلام نہیں ہیں. اپنے حقوق کے لیےُ کھُل کر میدان مین آییُں. خواتین کو شہہ ملی تو انہیں نے ان کی عزّت کا محافظ پردہ اُتار پھینکا. عورت فطرتآ اپنی نمایُش چاہتی ہے. دیکھتے ہی دیکھتے عام اشتہارات میں نیم عُریاں عورتیں نظر آنے لگیں. اب حالت یہ ہے کہ ٹی وی پر بڑی بوڑھیاں مردوں کے ساتھ ڈانس کرتی نظر آتی ہیں. اشتہارات میں عورت کے ڈانس کو اشتہار کی کامیابی سمجھا جاتا ہے. حیران ہُوں کہ موجودہ حالت عورت کی کامیابی ہے یا بربادی. خواتین موجودہ حالت کو برقرار رکھنے کے لیےُ بے شمار دلایُل دے سکتی ہیں. میں تو صرف یہ جانتا ہُوں کہ ہر انسان نے اپنی عمر گزار کر ایک دن اپنے اعمال کا حساب دینا ہے. جہاں نہ کویُ وکیل ہوگا اور نہ کویُ مددگار.

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ ملک مٰیں بد اخلاقی کون پھیلا رہا ہے یا اس میں مدد دے رہا ہے. میرے خیال میں درج ذیل شعبے بد اخلاقی، عُریانی، فحاشی اور جنسی جرایُم میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں.

مزید تفصیل کے لیےُ ہمارا آرٹکل “ ہمارے سلگتے مسایُل نمبر2، اخلاقی گراوٹ ” پڑھیےُ

نمبر 1 – اشتہارات — 99 فی صد اشتہارات پر کسی عورت کی تصویر ہوگی. آج کل دوپٹہ سرے سے غایُب ہے. عورتیں اپنے سر کے بال بڑھا لیتی ہیں اور انہیں دوپٹہ کی جگہ سینہ پر ڈال لیتی ہیں. اگر ایسا نہ بھی کریں ، تو بھی ننگے سر رہنا فیشن بن گیا ہے. سر پر دوپٹہ اوڑھنے والی خواتین کو ” پسماندہ ” سمجھا جاتا ہے. ٹی وی پر بعض اشتہارات ایسے بھی دکھایُ دےُ جا رہے ہیں جن میں ماڈل عورتیں اپنے جوبن کی خصوصی نمایُش کرتی ہیں. آللہ تعالے انہیں ہدایُت دے. ان ماڈلز کو یہ بھی پتہ ہونا چاہیےُ کہ زندگی بہت مختصر ہے ، اور قیامت کا ایک دن مقرر ہے.

نمبر 2 – ٹیلی ویژن — ٹیلی ویژن پر جو ڈرامے دکھاےُ جا رہے ہیں ، ان میں خواتین کے لباس سکن ٹایُٹ ہوتے ہیں. سر پر دوپٹہ کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا. ایسے لباس ملک کی خواتین کو اسی طرح کے لباس پہننے کی خواہش کو اُبھارتے ہیں. بعض ڈراموں میں خواتین پینٹ پہنے دکھایُ دیتی ہیں، اور وہ بھی سکن ٹایُٹ. لا حول ولا قوتہ . اسلام میں خواتین کو مردوں جیسا لباس اور مردوں کو عورتوں کا لباس پہننے کی ممانعت ہے. ہم نے آللہ کے احکامات کو نہ ماننے کا تہییہ کر رکھا ہے. استغفراللہ.

نمبر 3 سٹیج ڈرامے — سٹیج ڈرامے فحاشی پھیلانے کا ایک بڑا ذریعہ ہیں. آن ڈراموں میں ذومعنی الفاظ بولنے کا چلن عام ہے. سٹیج ڈراموں کی آڑ میں بڑے ہی فُحش ڈانس دکھاےُ جاتے ہیں. ان ڈراموں سے حاصل کمایُ کے متعلق کسی عالم دین سے پوچھییےُ کہ یہ کمایُ حلال ہے یا حرام

ا مبر 4 – فیشن شو — کچھ سرصہ پہلے تک ہمارے ملک میں فیشن شو نہیں ہوتے تھے، اب ہم ” ترقی” کر چکے ہیں. ہمارے ملک میں فیشن شو منعقد ہو رہے ہیں. شیطان کے چیلے بڑھ رہے ہیں. اکتوبر 2023 میں ریاض شہر سعودی عرب میں بھی فیشن شو ہُؤا تھا. جس میں ماڈلز نے لمبے لباس صرف سینہ تک پہنے ہُوےُ تھے. جو ” صاف چھُپتے بھی نہیں ” کا عملی مظاہرہ تھے.اس پوسٹ میں دی گیُ تصویر اس فیشن شو کی ایک ماڈل کی تصویر ہے. اگر اکبر الہ آبادی زندہ ہوتے تو غیرت ملّی سے مر جاتے.

صنف نازک کا استحصال کیسے بند ہو ؟

اپنے ملک میں اب حالت یہ ہے کہ اکیلی عورت کسی رکشہ میں سفر کرتے ہُوےُ ڈرتی ہے. پچھلے کیُ ماہ میں ایسے کییُ واقعات ہو چُکے ہیں کہ کویُ اکیلی عورت کہہیں جانے کے لیےُ رکشہ میں بیٹھی. رکشے والا اسے کسی جگہ لے گیا اور اس سے زبردستی کر ڈالی. ایسا لگتا ہے کہ ہمارے معاشرہ میں بھیڑیوں کی تعداد زیادہ ہو گیی ہے. ہر شخص کے پاس ناجایُز آتشیں اسلحہ ہے، جس سے ڈرا دھمکا کر وہ عوام کو لُوٹتا ہے. متوسط طبقہ بہت پریشان ہے. ڈاکو دن دہاڑے اسلحہ کے زور پر لوگوں کو لُوٹ رہے ہیں. مزاحمت پر گولی مار دیتے ہیں. اس بد امنی پر قابو نہ پایا گیا تو یہاں جنگل کا قانون نافذ ہو جاےُ گا. ان مجرمانہ واقعات پر قابو پانے کے لیےُ یہ اقدامات اُٹھاےُ جا سکتے ہیں :

نمبر 1- کسی خاتون کے ساتھ بد فعلی پر مجرم کو پھانسی کی سزا دی جاےُ.
نمبر 2 – لٹیروں، راہزنوں، ڈاکوؤں کو 80 سال قید با مشقت کی سزا دی جاےُ . نمبر3 – چورکا پہلی چوری پر داہنا ہاتھ کات دیا جاےُ. ؤہی چور کسی دوسری چوری میں پکڑا جاےُ    تو اس  کا بایاں ہاتھ بھی کاٹ دیا جاےُ. مندرجہ بالا دونوں سزایُیں اسلامی قانون کے مطابق ہیں. ان سزاؤں کے عملی نفاذ سے 3 ماہ پہلے ان سزاؤں کی روزانہ تشہیر کی جاےُ.
نمبر 4- مندرجہ بالا ملزموں کی ضمانت لینے والوں کے متعلق منصفانہ تحقیقات کی جاییُں. کہ ضمانت لینے والوں کا ان مجرموں سے کیا تعلق ہے. ًمجرموں کی پشت پر کویُ با رسوخ اور طاقتور شخص یا اشخاص ہوتے ہیں. ان پر ہاتھ ڈالنا بھی ضروری ہے. ایسے کچھ اشخاص پر اگر قانون اپنا راستہ بنا لے تو امن قایُم ہو اسکتا ہے.

خاندانی اور جایُداد کی دُشمنیاں کیسے ختم ہوں ؟

آپ اخبار تو روزانہ پڑھتے ہوں گے. روزانہ ہی خاندانی دُسمنیوں اور جایُداد کے جھگڑوں میں کتنے لوگ جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں. آج مورخہ 26 جُون 2024 کو روزنامہ جنگ، لاہور کے صفحہ نمبر 3 پر ایک ایسی ہی خبر شایُع ہُویُ ہے جو اس طرح ہے :

” پشاور میں جایُداد کے تنازع پر گھر میں گھُس کر فایُرنگ، 9 افراد قتل “

 مسلح افراد پیدل آےُ، ایک باہر کھڑا رہا. دوسرے نے اندر داخل ہو کر موقع پر موجود تمام افراد کو نشانہ بنایا. مقتولین میں اشفاق کی دو بیویاں، والدہ، بچّے، بھتیجے، بھتیجی  شامل. قیامت صُغرا کا منظر. ملزمان موٹر سایُکل چھین کر فرار.

روزانہ ایسی خبریں اخبارات میں شایُع ہو رہی ہیں. ایسی وارداتیں زیادہ تر صُوبہ خیبر پختونخواہ میں ہو رہی ہیں، خصوصآ وہاں کے قبایُلی علاقوں میں. صوبہ میں قباُٰیُل کی دشمنیاں سال ہا سال سے چل رہی ہیں. لیکن اتنے قتل ہونے کے باوجود قبایُلی اپنی دشمنی کو ترک کرنے پر تیار نہیں. اپنے کسی فرد کے قتل کا بدلہ لینا وہ اپنا فرض سمجھتے ہیں. قبایُلی کسی کا طعنہ برداشت نہیں کر سکتے. قبایُلی علاقوں میں اسلحہ بڑی آسانی سے مل جاتا ہے، اسی لیےُ آپ کو وہاں تقریبآ ہر شخص کے پاس اسلحہ نظر آےُ گا.

ان علاقوں میں جب خون ریزی بڑھ جاتی ہے تو اسے روکنے کے لیےُ جرگہ بلایا جاتا ہے. ایسا جرگہ صرف خون تیزی روکنے کے لیےُ ہی نہین بلایا جاجاتا ، بلکہ عام تنازعات کو بھی نمٹانے کی کوشش کرتا ہے. قتل کے معاملات میں فریقین اس وقت تو شاید خاموش رہیں لیکن اپنے کسی عزیز کے قتل کا بدلہ لینا وہ فرض عین سمجھتے ہیں. اور وہ اسے بھولتے نہیں. اس قسم کے قتل و غارت کو روکنے کے لیےُ تعلیم کی ضرورت ہے. قبایُلی اپنے پیروں کی بات بہت مانتے ہیں. اگر ان کے پیروں کو اس بات پر آمادہ کیا جا سکے کہ وہ اپنے قبایُلی مریدوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کریں ، کہ کسی کی جان لینا بہت بڑا گناہ ہے تو شاید یہ بات قبایُلیوں کی سمجھ میں آ جاےُ. دوسرا طریقہ یہ ہے کہ قبایُلی بچوں کو سکول میں روزانہ یہ سبق پڑھایا جاےُ کہ کسی کی جان لینا بہے بڑا گناہ ہے، تو شاید وہ بڑے ہو کر ان دشمنیوں سے باز آ جایُیں. مساجد کے امام بھی غیر محسوس طور پر یہ بات سمجھانے کی کوشش کر سکتے ہیں

اللہ تعالے سے دُعا ہے کہ وہ اپنے حبیب کے صدقےہمارے ملک میں سب کو امن و امان سے رہنے کی توفیق عطا فرماےُ آمین.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *