Sipraworld4all

اب کر ڈالو – Do it now.

Do it now. . For better image of your country , yo must do it now.

اب کر ڈالو
Do it now.

 

Do it now

اب وقت ہے جو کچھ کرنا ہے، اب کر ڈالو.اپنے ملک پاکستان کو معرض وجود میں آےُ ہوُےّ 76 سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے. اس عرصہ میں ہم سےاقتدار حاصل کرنے کے لیےُ کیّ حماقتیں ہوُییُں. ہم نے اپنے ملک کا ایک بازو گنوا دیا. اب لکیر پیٹنے کا کویُ فایُدہ نہیں. ہاں ہمیں اپنی غلطیوں کو دوہرانہ نہیں چاہیےُ. کیُ ملک ہمیں نیست و نابود کرنے کے لیےُ اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ملک میں انارکی پھیلا چکے ہیں. ہمیں ان سے ہوشیار رہنا چاہیےُ. یہ ایجنٹ حب الوطنی کا لبادہ اوڑھے نا سمجھ عوام کے ذہنوں میں زہر بھر چُکے ہیں. ہمیں اپنا ملک بچانے کے لیےُ کیُ ایک سخت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے. آگے بڑھیں ، ہمت مرداں ، مدد خُدا، ملک کے لیےُ یہ کام  اب کر ہی ڈالو.

عنوانات

غلطیاں نہ دہرایُیں
تقدیر اُمم
اپوزیشن کا کردار
سیاسی پارٹیاں
اخلاقی معیار
فیشن اور ٹی وی
مخلوط تعلیم
امن و امان
سخت سزاؤں کا نفاذ
کام سخت ہے.

ایک ضروری ترمیم

غلطیاں نہ دہرایُں

قیام پاکستان سے لے کر اب تک ہم سے بے شمار غلطیاں سرزد ہُویُیں کچھ غلطیاں عوام سے اور زیادہ غلطیاں ارباب اقتدار سے ہُویُیں. قاۃد اعظم کی وفات کے بعد ہم میں ملک کی خدمت کی بجاےُ اقتدار حاصل کرنے کی تگ و دو زیادہ رہی. ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کا کھیل شروع ہُؤا جو اب تک جاری ہے.

آج کل کی نوجوان پود کو اُن قربانیوں کا احساس نہیں جو پاکستان حاصل کرنے کے لیےُ امت مسلمہ نے دیں. قیام پاکستان کی کوششوں میں مدد دینے والے یا تو شہر خاموشاں میں جا بسے ہیں یا گوشہ نشیں ہو چکے ہیں. جہاں وہ کُچھ نہ کر سکنے کی وجہ سے صرف دُعا ہی کر رہے ہیں. آج کل اقتدار ملک کی خدمت کے لیےُ حاصل نہیں کیا جاتا بلکہ ذاتی فوایُد حاصل کرنے کے لیےُ ہوتا ہے. مجھے تقسیم ہند کا وہ زمانہ بھی یاد ہے . جب پاکستان اور ہندوستان دو علیحدہ علیحدہ مُلک بن گیےُ. ہندوستان کی حکومت میں شامل کسی بھی افسر یا وزیر کو صرف ایک گاڑی ملتی تھی. اُس زمانے میں سوزوکی کمپنی اپنی درمیانہ درجے کی گاڑی ” ماروتی ” کے نام سے ہندوستان میں بناتی تھی. ہندوستان کے وزیر اعظم سے لے کر ہر مجاز افسر کو یہی گاڑی ملتی تھی. ادھر ہمارے ملک میں افسران سب سے پہلے غیر ملکی بڑی گاڑی مانگتے تھے ، اور یہ چلن آج تک چل رہا ہے. ایسی ہی عیاشیوں نے ہمیں مقروض بنا دیا ہے. وقت کا تقاضہ یہ ہے کہ حکومت میں بیٹھے لوگ رضاکارانہ طور پر حاصل شدہ آسایُشات میں کمی کر دیں. ملک کو ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے یہ کام اب کر ڈالو.

تقدیر اُمم

ہمارے قومی شاعر اور مفکر پاکستان محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے ایک شعر میں اقوام کی تقدیر کو یوں بیان کیا ہے ؛

آ تُجھ کو بتاؤں میں ، تقدیر اُمم کیا ہے
شمشیر و سناں اوّل، طاؤس و رُباب آخر

ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہم نے اپنی تقدیر کا معیار یُوں بنایا ہے :

آ تُجھ کو بتاؤں میں ، تقدیر اُمم کیا ہے
طاؤس و رُباب اوّل ، طاؤس و رُباب آخر

ترقی یافتہ اقوام عالم کی تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے ترقی کے لیےُ سخت محنت کی. آسایُشوں کے دلدادہ نہیں ہُوےُ. ملکی ترقی میں اپنے حصّہ کا کام ًمحنت کر کے اُسے بام عروج تک پہنچایا. ذرا سوچیےُ، کیا ہم ایسا نہیں کر سکتے ؟ ہم سب مل کر کر سکتے ہیں، جی ہاں. یہ کام اب کر ڈالو.

اپوزیشن کا کردار

کسی بھی ملک میں اپوزیشن کا ہونا ضروری ہے یہ اپوزیشن ہی ہے جو حزب اقتدار کو نکیل ڈالے رکھتی ہے. حکومت کسی قانون کو اسمبلی سے پاس کروانے کے لیےُ اسمبلی میں پیش کرتی ہے تو اپوزیشن اس مجوزہ قانون میں خامیوں کی نشان دہی کرتی ہے، اسے بہتر بنانے کے لیےُ اپنی تجاویز پیش کرتی ہے. اس طرح وہ حکومت کو اپنی من مانی کرنے کی کھلی چھٹّی نہیں دیتی. یہ ایک مہزب اپوزیشن کا کردار ہوتا ہے. ہمارے ملک کی اپوزیشن کا کیا کہنا. قومی اسمبلی کے مییُ 2024 عیسوی کے اجلاس میں پہلے اپوزیشن لیڈر نے ڈیڑھ گھنٹہ تقریر کی جس میں انہوں نے حکومت کے خلاف جی بھر کر کیچڑ اُچھالا. پُوری اسمبلی نے بڑے تحمل سے ان سارے الزامات کو سُنا جو اپوزیشن لیڈر نے لگاےُ تھے. جب حکومت کی طرف سے تقریر شروع ہُویُ تو اپوزیشن ارکان نے حسب روایُت شور مچانا شروع کر دیا. سیٹیاں اور باجے بجانے لگے اپنی سیٹوں پر کھڑے ہو کر نازیبا نعرے لگانے شروع کر دیےُ. ان کے اس رویے سے ساری دُنیا کو کیا پیغام گیاُ ؟. یہی کہ پاکستانی قوم بد تہزیب ہے. اپوزیشن نے اپنے رویہ سے یہ ثابت کر دیا کہ وہ پاکستان کو بدنام کرنے کے ایجنڈے کو آگے بڑہانے کے کسی موقع کو بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیں گے. پوری قومی اسمبلی نے ان کے بے ہودہ الزامات کو بڑے تحمل سے سُنا. اگر یہ بھی ایسے ہی تحمل کا مظاہرہ کرتے تو انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا. لیکن لگتا ہے کہ اپوزیشن کا یہ عقیدہ ہے کہ

بدنام جو ہوں گے، تو کیا نام نہ ہو گا

اپوزیشن میں نڑے پڑھے لکھے لوگ بھی شامل ہیں . حیران ہُوں کہ یہ لوگ اپنے ساتھیوں کو نہزیب کے دایُرے میں رہنا کیوں نہیں سکھاتے ٓ! میرے خیال میں ان تمام حضرات کو 3 ماہ کے لیےُ ” مہزب اقوام ” کے موضوع پر کورس کرواےُ جایُں . ہم سب کو اپنے کردار اور گفتگو سے دُنیا کو یہ پیغام دینا چاہیےُ کہ ہم مہزب قوم کے افراد ہیں. اپنے ملک کے بہتر امیج کے لیےُ یہ کام کر ہی نڈالو.

سیاسی پارٹیاں

پنجابی زبان کا ایک محاورہ ہے ” جتنا گُڑ پاہو، اتنا ہی مٹھّا ہوندا اے ” مصیبت یہ ہے کہ سیاسی پارٹیاں گُڑ کی طرح میٹھی نہیں ہوتیں. بعض سیاسی پارٹیاں تو کریلے سے بھی زیادہ کڑوی ہوتی ہیں. ایک بات بتاییُے ، دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں سیسای پارٹیوں کی تعداد دو یا تین سے زیادہ کیوں نہیں ہوتی ؟ در اصل ان ممالک نے اپنے برس ہا برس کے تجربات کے بعد یہ نتیجہ نکالا ہے کہ سیاسی جماعتیں جتنی زیادہ ہوتی ہیں ، ملک میں اتنے ہی فسادات زیادہ ہوتے ہیں. ہمیں ایسے ممالک کے تجربات سے فایُدہ اٹھانا چاہییےُ. اپنے مُلک میں سیاسی پارٹیوں کی تعداد کتنی ہے ؟ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس 7 صفحات پر مشتمل ریکارڈ پر 166 رجسترڈ سیاسی پارٹیوں کے نام درج ہیں. پاکستان کے کُل اضلاع کی تعداد غالبآ اتنی نہیں جتنی سیاسی پارٹیوں کی تعداد ہے. ان میں بعض سیاسی پارٹیاں ایسی بھی ہوں گی جن کے ممبران کی تعداد کسی ایک فرد کے گھرانے کے ممبراں جتنی ہو گی. سیاسی پارٹیوں کی تعداد مقرر ہونی چاہیےُ. ملک میں جتنی زیادہ سیاسی پارتیاں ہوں گی اتنے اختلافات زیادہ ہوں گے. چین میں صرف ایک سیاسی پارٹی ہے. امریکہ مٰیں صرف دو سیاسی پارٹیاں ہیں، ریپبلکن پارتی اور ڈیموکریٹک پارتی.

سیاسی پارٹیوں کی رجستریشن کا پراسیس کافی مشکل اور سخت محاسبے پر مشتمل ہونا چاہیےُ. ہر کویُ جب جی چاہے اُٹھ کر سیاسی پارٹی نہ بنا سکے. مجھے یاد ہے 2018 عیسوی کے انتخابات کے لیےُ ایک گانے والے نے بھی پارٹی بنایُ تھی. الیکشن بھی لڑا تھا. بُری طرح ناکام ہُؤا.

ایسے افراد جو کسی بھی شکل میں ملک مخالف بیانات یا کاموں میں ملوث پاےُ گیےُ ہوں ، وہ اگر کسی سیاسی پارٹی ممبران میں شامل ہوں تو اس پارٹی کو فورآ بلیک لسٹ کر دیا جاےُ. اس ضمن میں کویُ رو رعایت نہ ہو. دیکھیےُ، ملک کو درست کرنے کے لیےُ کچھ سخت فیصلے بھی کرنے پڑتے ہیں.

اخلاقی معیار

کسی قوم کو کمزور کرنا ہو تو اس کے اخلاق کے معیار کو تباہ کر دو. کچھ طاغوتی طاقتیں اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیےُ اسی فارمولے کو استعمال کرتی ہیں. اس مقصد کے لیےُ کسی ایسے شخص یا پارٹی کو تلاش کرتے ہیں جو ان کے ایجنڈے کو آگے بڑھا سکے. ہر ملک میں ایسے وطن فروش مل جاتے ہیں . ہر شخص کی کچھ مجبوریاں ہوتی ہیں، جو نعض لوگوں کو وطن فروشی پر مجبور کر دیتی ہیں. طاغوتی طاقتیں ایسے ہی اشخاص کی تلاش میں رہتی ہیں. قوموں کے اخلاق تباہ کرنے کے لیےُ ایک فرد کی بجاےُ کویُ سیاسی پارٹی زیادہ فایُدہ مند ثابت ہوتی ہیں. اب ہم صرف نام کے مسلمان رہ گیےُ ہیں. اخلاقی گراوٹ میں ہماری عورتیں کچھ زیادہ ہی آگے نکل گییُ ہیں. عورت کے سر سے اس کی عزت کا محافط دوپٹہ ، سر سے اُتر کر گلے سے ہوتا ہُؤا اب قطعآ غایُب ہو چکا ہے. دوپٹہ کو خدا حافط کہنے میں ٹیلی ویژن چینلز کا بڑا ہاتھ ہے. کویُ بھی ٹی وی چینل لگا کر دیکھ لیں، سواےُ ایک یا دو چینلز کے کسی بھی لیڈی اینکر پرسن کے سر پر دوپٹہ نہیں ہوتا. ( سر پر دوپٹہ اوڑھنے والی لیڈی اینکر پرسن کے احساس عزت کو سلام ). نت نیےُ فیشنوں کی دوڑ نے بھی اس بے حیایُ کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے. کیا ہم اپنی عورتوں کو باعزت لباس پہننے کی تعلیم نہیں دے سکتے ؟ عورت کو بے پردہ کرنے میں مردوں کا بھی قصور ہے. پچھلی صدی کے شاعر اکبر الہہ آبادی نے سچ ہی کہا تھا ؛

بے پردہ نظر آیُیں کل جو چند بیبیاں
اکبر زمیں میں غیرت ملّی سے گڑ گیا
پوچھا جو اُن سے آپ کا پردہ وہ کیا ہُؤا
کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کی پڑ گیا

سچ تو یہی ہے کہ باپ اپنی بیٹی کو، خاوند اپنی بیوی کو باہر جاتے ہُوےُ پردہ کرنے کی عادت ڈالے. یاد رہے کہ ہم مسلمان ہوتے ہُوےُ قیامت کے دن اس بات کے جواب دہ ہوں گے کہ ہم نے اپنی بیٹیوں یا بیویوں کو پردہ کرنا کیوں نہ سکھایا.

اخلاقی گراوٹ کی سب سے زیادہ تکلیف دہ بات صنف نازک سے غیر اخلاقی حرکات ہیں. جو آج کل کچھ زیادہ ہی اخبارات میں شایُع ہو رہی ہیں. ایسا لگتا ہے شیطانوں کی پوری فوج نے ہمارے ملک پر حملہ کر دیا ہے. اور اس فوج میں فعل قوم لُوط کے پُجاری بھی شامل ہیں . ان دونوں جرایُم پر قابو پانے کے لیےُ نہایت سخت سزاؤں کی ضرورت ہے. ہماری قوم لاتوں کے بھوت بن گییُ ہے، باتوں سے نہیں مانیں گی. اپنی قوم کو درست راستے پر ڈالنے کے لیےُ سخت قوانیں کا نفاذ کر ہی ڈالو.

ملک کا ہر مہذب شہری اس بات کو تسلیم کرے گا کہ ملک میں عریانی کو فروغ دینے میں فیشن ، اشتہارات اور ٹی وی کا بڑا ہاتھ ہے. بدقسمتی سے ان اداروں کے مالکان کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گییُ ہے کہ ان تینوں شعبوں میں ینم عُریاں یا رقص کرتی عورت کو دکھانے سے اس پروگرام یا اشتہار کو زیادہ مقبولیت حاصل ہو گی. یہ ایک غلط خیال ہے. ہاں ایسا کرنے سے ان کے گناہوں میں مزید اضافہ ہوتا رہے گا. عورت ایک ماں ہے، ایک بہن ہے، ایک بیٹی ہے ، اور ایک بیوی ہے. یہ سب رشتے قابل احترام ہیں، اور انہیں اس احترام سے نیچے نہ گرایا جاےُ.

یہ جو تی وی پر ہر پروگرام کے وقفے میں ایسے اشتہارات دکھاےُ جاتے ہیں ، جن میں مرد اور عورتٰیں اکٹھے رقص کر رہے ہوتے ہیں ایسے اشتہارات ممنوع ہونے چاہیُیں. یہ ہمارا کلچر نہیں ہے. ایسے اشتہارات بے راہ روی کو مزید بڑھاتے ہیں.

مخلوط تعلیم

مخلوط تعلیم ہمارے معاشرے کے لیےُ زہر قاتل ہے. اور ہمارے مزاج کے خلاف ہے. عیسایُ ملک کینیڈا کی کچھ ریاستوں میں کیُ سکول اور کالج ہیں جو صرف مسلم لڑکیوں کے لیےُ وقف ہیں. ان سکولوں اور کالجوں میں نہ تو کویُ مرد ملازم ہے اور نہ ہی کویُ مرد ٹیچر ہے. سارا انتظام عورتوں کے ہاتھ میں ہے. کویُ لڑکی پردے کے بغیر سکول یا کالج میں داخل نہیں ہو سکتی. وقت پر نماز پڑھایُ جاتی ہے. عام زندگی میں بھی یہ لڑکیاں پردے کے بغیر گھر سے باہر نہیں نکلتیں. بازار مٰیں انہیں احترام سے دیکھا جاتا ہے. اس کے برعکس مخلوط تعلیم کے حامل سکول اور کالجوں میں کیُ غلط واقعات ہوتے ہیں ، لیکن وہاں کے معاشرہ میں ایسے واقعات قابل ملامت نہیں. لیکن ہمارے ہاں مخلوط تعلیم کچھ زیادہ پسندیدہ نہیں. یہ ہمارے معاشرتی آداب کے خلاف ہے.

امن و امان

حکومت کی ایک اہم ذمہ داری ملک میں امن و امان قایُم رکھنا ہے. ملک میں اس وقت امن و امان کی صورت حال کچھ زیادہ پسندیدہ نہیں. قتل، اغوا ، ڈاکہ زنی اور راہ زنی کی وارداتٰنں روزانہ رپورٹ ہو رہی ہیں. ملک میں امن قایُم کرنے کی ذمہ داری عمومآ ملک کی پولیس پر عایُد ہوتی ہے. ہمارے ملک میں پولیس ملازمین کی تعداد اتنی نہیں، جتنی ہونی چاہیےُ. فنڈ کی عدم دستیابی اس کی ایک وجہ ہو سکتی ہے. پولیس کی موجودہ نفری میں سے تقریبآ آدھی نفری وی ایُ پی شخصیات کی سیکیورٹی پر تعینات ہے. باقی آدھی پولیس کہاں کہاں اپنے فرایُض سر انجام دے. ہمارے ملک کے چار صونے ہیں. اور ہر صوبے کی علیحدہ پولیس ہے. ہر صوبہ اپنی استعداد کے مطابق پولیس ملازمین کی تعداد رکھتا ہے. جو امن و امان کو کنٹرول کرنے کے لیےُ عمومآ نا کافی ہوتی ہے. اس مسلہ کو حل کرنے کے دو طریقے ہیں

نمبر 1. پولیس ملازمین کی تعداد بڑھایُ جاےُ
نمبر 2– وی ایُ پی شخصیات پر مامور پولیس ملازمین کو واپس اپنے علاقہ میں بھیج دیا جاے، جو امن و امان قایُم رکھنے میں حکومت کی مدد کرے. وی آی پی شخصیات کی سیکیورٹی کے لیےُ ایک علیحدہ شعبہ قایُم کیا جاےُ جو صرف اس کام کے لیےُ مخصوص ہو. یہ معیار بھی مقرر کیا جاےُ کہ حکومت کا کون کون سا عہدیدار سیکورٹی کا حقدار ہے. کسی عہدیدار کی سیکورٹی پر 3 سے زیادہ سیکورٹی عہدیدار نہ ہوں. اس اصول پر سختی سے عمل کیا جاےُ. یہ سب تجاویز ہیں . ان پر غور و خوض کے نعد ان کی ناک پلک درست کی جا سکتی ہے.

سخت سزاؤں کا نفاذ

دو ہزار چودہ سن عیسوی سے پہلے تک ہماری قوم بہت حد تک مہذب تھی. پھر ایک سیاسی پارٹی   نے    بے راہ روی کا ایسا چکر چلایا کہ بزرگوں کا ادب ختنم ہو گیا، جنسی بے راہ روی بڑھ گییُ. بات بات پر پستول نکلنے لگے. چھوٹی چھوٹی باتوں پر دوستوں نے اپنے دوستوں کو قتل کر دیا. انسان کی جان کی کویُ قدر نہ رہی. اب حالت یہ ہے کہ روم جل رہا ہے اور نیرو بانسری بجا رہا ہے. حالات کو کنٹرول کرنا مشکل بنا دیا گیا ہے. لیکن ہمیں حالات کو قابو کرنا ہے. اس کے لیےُ سخت سزاؤں کا نفاذ ضروری ہے. سعودی عرب میں چور کے ہاتھ کاٹ دیےُ جاتے ہیں. وہاں کویُ چوری نہیں ہوتی. قاتل کی سزا قتل ہے ، کویُ کسی کو قتل نہیں کرتا. ہمارے ملک میں جب تک سخت قوانیں نافذ نہیں ہوں گے، جرایُم پر قابو پانا مشکل ہوگا. ملک کو جرایُم سے پاک کرنے کے لیےُ ، ملک کو ترقی دینے کے لیےُ یہ کام کر ڈالو.

کام سخت ہے

ملک کے موجودہ حالات کو دیکھتے ہُوےُ یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ملک کو اس گرداب سے نکالنے کا کام واقعی سخت ہے. لیکن ہمت نہیں ہارنی چاہیےُ. ظہیرالدین بابر کیُ شکستوں کے بعد ایک غار میں چھُپا بیٹھا تھا. اۃس نے دیکھا کہ ایک کیڑی غار کی دیوار پر اوپر چڑھنے کی کوشش کر رہی ہے. کیڑی ہر دفعہ دیوار پر کُچھ اُوپر پہنچ کر نیچے گر پڑتی تھی. بابر اس کیڑی کو بڑے غور سے دیکھ رہا تھا. کیڑی اٹھارہ دفعہ اوپر سے نیچے گر چُکی تھی. لیکن اُس نے ہمت نہ ہاری، اور اُنّیسویں دفعہ وہ اپنے مطلوبہ مقام پر پہنچ گیُی. بابر نے سوچا جب یہ چھوٹی سی کیڑی نے ہمت نہیں ہاری ، تو میں ، ایک انسان، اپنی ہمت کیوں ہاروں!. اُس نے مصمم ارادہ کر لیا کہ وہ ہمت نہیں ہارے گا. اور پھر یہی ظہیر الدین بابر ہندوستان کا بادشاہ بنا. بات صرف پُختہ ارادے اور عزم کی ہوتی ہے. اللہ تعالے بھی انہی کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں. اُٹھیےُ، مصمم ارادہ کیجیےُ، اور اللہ کا نام لے کر کام میں جُٹ جاییےُ. اللہ ہماری مدد کرے گا. ملک اور قوم کے لیےُ یہ کام اب کر ہی ڈالیےُ.

مًلک کے کن کن مسایُل کو حل کرنے کی ضرورت ہے ، اس سلسلے میں ہمارا آرٹیکل ” ہمارے سُلگتے مسایُل # 13, عدم مساوات ” پڑھییےُ.

ایک ضروری ترمیم

جب کبھی الیکشن کا زمانہ آتا ہے ، بعض سیاست دانوں کے پیٹ میں عوام کے درد کا مروڑ اٹھتا ہے. وہ عوام کی خدمت میں سرشار ایک سے زیادہ حلقوں میں الیکشن لڑنے کے لیےُ اپنے کاغذات جمع کرا دیتے ہیں. یہ الیکشن میں کامیابی کی ایک چال ہے. کہ ایک سے زیادہ حلقوں میں الیکشن لڑنے کی صورت میں کسی ایک حلقے میں تو کامیابی کی امید لگایُ جا سکتی ہے. ورنہ ایک سے زیادہ حلقوں میں الیکشن لڑنے سے ملک کا کویُ فایُدہ نہیں . ایک سے زیادہ حلقوں میں الیکشن میں کامیابی کے بعد جیتنے والا صرف ایک سیٹ رکھ سکتا ہے، باقی سیٹوں پر دوبارہ الیکشن ہو گا. الیکشن پر دوبارہ اخراجات ہوں گے. جو عوام کے دیےُ گیےُ ٹیکسوں سے ادا کیےُ جاییُں گے. یہ تو ایسا ہی ہے جیسا پنجابی زبان کے ایک محاورے کے مطابق ” نانی خصم کرے، دوہترا چٹّی بھرے ” ( نانی نے آخری عمر میں شادی کر لی، اس شادی کے اخراجات اس کے نواسے کو بھرنے پڑ گیےُ ) آخر کسی امیدوار کا ایک سے زیادہ حلقوں سے انتخاب لڑنے سے ملک کو کیا فایُدہ پہنچتا ہے. کیا یہ بہتر نہیں کہ انتخاب لڑنے والا امیدوار اپنے آبایُ علاقے کا رہنے والا ہو، جہاں اس کا نام ووٹر لسٹ میں شامل ہو. ایک شخص صرف ایک حلقے سے انتخاب لڑنے کا اہل ہو. اپنے حلقے کے علاوہ دوسرے حلقوں سے انتخاب لڑنے کا مطلب ہے وہاں کے رہایُشیوں کا حق صلب کیا جا رہا ہے. اپنے حلقے سے انتخاب لڑنے کی صورت میں عوام کے صحیح حقدار نمایُندے اسمبلیوں میں آیُیں گے. دوبارہ انتخابات سے جان چھوٹ جاےُ گی، اور اخراجات میں کمی ہوگی.اس وقت ہمیں ایک ایک روپیہ بچانے کی ضرورت ہے. فالتو اخراجات کو خدا حافظ کہنا پڑے گا. ملک کی بہتری کے لیےُ ہمیں ہر وہ کام چھوڑنا پڑے گا جس سے ملک کو کویُ فایپدہ نہ پہنچتا ہو. ایک حلقے سے زیادہ حلقوں میں الیکشن لڑنے سے ملک کو کویُ فایُدہ نہیں پہنچتا. اُلٹا نقصان ہوتا ہے. ملک کی بہتری کے لیےُ ایک شخص کا ایک سے زیادہ حلقوں سے انتخاب لڑنے پر پابندی سے ملک کا فایُدہ ہوگا. اب وقت ہے یہ کام بھی کر ڈالو.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *