Sipraworld4all

ہمارے سُلگتے مسایُل # 11 دولت کی ہوس – 11 # Ambition of affluence – Our burning issues

ہمارے سُلگتے مسایُل # 11
دولت کی ہوس
Our burning issues # 11
Ambition of affluence

  Ambition of affluence

انسان فطرتآ دولت کی ہوس کا پُجاری ہے. یہ کویُ آج کی بات نہیں . آپ پُرانی انسانی تاریخ سے لے کر آج تک کی تاریخ کا مطالعہ کر لیں، کتنی ہی جنگیں لڑی گییُں، جن میں فاتح لوگ فتح کے بعد مفتوح علاقوں میں لوٹ مار کرتے تھے . یہ سب کچھ اپنی دولت میں اضافہ کے لیےُ کیا جاتا تھا. آج کل یہی کام بزنس کے مہزب نام کے ذریعے کیا جا رہا ہے. وُہ زمانہ گیا جب کاروبار کے کچھ اصول ہوتے تھے. آج کل کے کاروباری لوگ کا کہنا ہے کہ کاروبار میں اگر ڈنڈی نہ ماریں ، تو منافع کیسے کمایُیں. . ایک چھوٹی سی مثال لیں . کورونا کی یلغار کے زمانہ میں فیس ماسک کی بڑی ڈیمانڈ تھی . آج بھی ہے، ماسک فیس بیچنے والے دکان دار مال تھوک میں خریدتے تھے جو انہیں 3 روپیہ میں ایک فیس ماسک پڑتا تھا. یہی ماسک وہ 10 روپے میں بیچتے تھے. اور اب بھی بیچ رہے ہیں. یہ دولت کی ہوس کی ایک عام مثال ہے. ہر شخص ” ھل من مزید ” کی دھُن میں ہے، اس کے لیےُ حلال حرام کی تمیز پش پُشت ڈال دی گییُ ہے. آج کل اسلامی کیلنڈر کے مطابق رمضان کا مہینہ چل رہا ہے. یہ وُہ مہینہ ہے جس میں مسلمانوں کو پورے مہینہ کے روزے رکھنے کا حکم ہے. اپنے کاروباری طبقے کی ذہنیت کا اندازہ لگا لیں . رمضان کے مہینہ سے پہلے جو چیز 50 روپے کی ملتی تھی ، وہ اس مہینے میں 400 روپے کی مل رپی ہے. کاروباری لوگ رمضان کے مہینے کے آنے سے پہلے ہی اشیاےُ خورد و نوش کا ذخیرہ بازار میں لانا بند کر دیتے ہیں . یہی اشیا وہ رمضان کے مہینے میں پانچ چھے گُنا مہنگی قیمت پر بیچتے ہیں. ًمیں تقریبآ ساری دُنیا گھوم چُکا ہوُں . مسیحی ممالک کے لوگوں کے لیےُ کرسمس کے دن بڑے متبرک سمجھے جاتے ہیں. ان ممالک میں کرسمس کے دنوں میں اشیا کی قیمتیں نصف سے بھی کم کر دی جاتی ہیں. ہم ، جو اپنے آپ کو جنت کے اصل وارث سمجھتے ہیں، رمضان کے مبارک مہینے میں روز مرہ کی اشیا کو ، عام مہینوں کے مقابلے میں ، % 400 یا % 500 تک مہنگا بیچ کر اپنی تجوریاں بھرتے ہیں. اور پھر بھی اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں. اصل بیماری دولت کی ہوس ہے. جس شخص کے پاس ایک لاکھ روپیہ ہے وہ اس مین اضافہ کرکے پانچ لاکھ بنانا چاہتا ہے. اس کے لیےُ وہ کسی بھی جایُز یا ناجایُز حد تک جا نے کے لیےُ تیار ہوتا ہے. وہ صرف اپنا نفع سوچتا ہے. دوسرے جاییُں جہنم میں. میں نے ان کا ٹھیکا لے رکھا ہے. یہ سوچ انتہایُ خود غرضی کی علامت ہے. جس کی دین اسلام میں گنجایُش نہیں. ہمارے سلگتے مسایُل کے موضوع پر ہمارا آرٹیکل ” ہمارے سلگتے مسایُل ‌# 10 – دین سے دُوری ” ضرور پڑھیےُ.

عنوانات

روزمرہ اشیا کی قیمتیں
بینکوں سے قرضہ
فیکٹریوں کی انشورینس
ناجایُز ذرایُع
بلیک مارکیٹنگ

Ambition of affluence

اپنے مُلک میں امیر بہت امیر ہے اور غریب بہت غریب ہے. امیر لوگوں نے کارخانے لگا رکھے ہیں. اپنی مصنوعات کی قیمت وہ اپنی مرضی سے مقرر کرتے ہیں . اور پھر دولت کی ہوس میں اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں وقتآ فوقتآ اضافہ کرتے رہتے ہیں. حکومت کی طرف سے قیمتیں کنٹرول کرنے کا کویُ قابل عمل منصوبہ نہیں. قیمتیں کم کرنے کے صرف بیانات آ جاتے ہیں. اس طرز عمل سے صرف امیر طبقہ فایُدہ اُٹھا کر اپنی دولت بڑھا رہا ہے. تجارت میں بعض شُعبے ایسے ہیں ، جو انتہایُ نفع بخش ہیں. ایسے شعبوں میں ادویہ سازی انتہایُ نفع بخش ہے. لوگ بیمار تو ہوتے رہتے ہیں، انہیں لازمی طور پر دوایُ ، طوعآ کرعآ خریدنی پڑتی ہے. لوگوں کی اس مجبوری سے یہ شعبہ ناجایُز فایُدہ اُٹھاتے ہُوےُ ، دولت کی ہوس میں ، تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد دواییُوں کی قیمتوں میں اضافہ کرتا رہتا ہے. عوام بیماری کی وجہ سے مہنگی دوایُیاں خریدنے پر مجبور ہیں.

بینکوں سے قرضہ

فیکٹریوں کے مالکان عمومآ بینکوں سے قرضہ لیتے رہتے ہیں . ایسے بہت کم فیکٹری مالکان ہوں گے جنہوں نے لیا ہُؤا قرضہ واپس کیا ہو. قیام پاکستان سے اب تک کھربوں روپیہ مختلف صنعتکاروں نے بینکوں سے قرضہ لیا. ان میں سے کتنے صنعتکار ایسے ہیں جنہوں نے اپنا قرضہ بینکوں کو واپس کیا ؟ قرضہ لینے والوں کے پاس قرضہ واپس نہ کرنے کے کییُ بہانے ہوتے ہیں. بینکوں کی ملی بھگت سے اپنے قرضے معاف کرا لیتے ہیں. ایسے کام دولت کی ہوس کے زُمرہ میں آتے ہیں.

فیکٹریوں کی انشورینس

دولت کی ہوس انسان کو کیا کُچھ کرنے پر مجبُور کر دیتی ہے ! انشورینس کمپنیاں ماہانہ معمولی رقم کے عوض ناگہانی آفات سے نقصانات کے ازالے کے لیےُ مالی تحفظ فراہم کرتی ہیں. فیکٹری مالکان بھی اپنی اپنی فیکٹریوں کی انشورینس کرا لیتے ہیں. عمومآ انشورینس ناگہانی آفات جیسے آگ، سیلاب وغیرہ سے نقصانات کے ازالے پر محیط ہوتے ہیں. لیکن بات وُہی ہے کہ دولت کی ہوس کیا کچھ کرنے پر مجبُور کر دیتی ہے. اگر کسی کی فیکٹری نُقصان میں جا رہی ہو، بینک کا قرضہ ادا نہ ہو رہا ہو ، یا کسی اور وجہ سے فیکٹری کو چلانا مشکل ہو جاےُ، تو مالکان فیکٹری کو آگ لگوا دیتے ہیں.اورانشورینس کمپنی سے فیکٹری کی مشینری اور جل جانے والے مال کی قیمت وصول کر لیتے ہیں. فیکٹری کو خود آگ لگا کر انشورینس کمپنی سے کلیم وصول کرنا دولت کی ہوس کی ایک مکروہ شکل ہے. بعض لوگ اس بات کی پرواہ نہیں کرتے . اُن کا عقیدہ ہوتا ہے کہ

ایہہ جہان مٹّھا ، اگلا کنے ڈٹھّا

ایسے ہی لوگوں کی متعلق ایک چھوٹی سی کہانی یاد آ گییُ. دو دوست جو اپنی اپنی فیکٹریوں کے مالک تھے، ایک جگہ اکٹھے ہُوےُ. ایک نے دوسرے سے پوچھا ” تمہاری فیکٹری کیسے چل رہی ہے ” . پہلے نے جواب دیا ” فیکلٹری میں آگ لگ گیُ تھی، تمام سامان جل گیا. انشورینس کمپنی سے کلیم کرکے اپنا نقصان پورا کر لیا . تم سُناؤ، تمہاری فیکٹری کیسے چل رہی ہے ” دوسرے نے جواب دیا ” سیلاب میں میری فیکٹری کافی عرصہ پانی میں دوبی رہی، تمام مشینری بیکار ہو گییُ . انشورینس کمپنی سے کلیم کیا ہے ، کچھ دنوں تک کلیم مل جاےُ گا، تو نیُ جگہ پر فیکٹری لگاؤں گا ” پہلا دوست کچھ دیر سوچتا رہا ، پھر کہنے لگا ” بڑا افسوس ہُؤا ، مگر یہ بتاؤ تم سیلاب کیسے لاے ُ؟ “.

ناجایُز ذرایُع

دولت کی ہوس انسان سے سے بہت کچھ کرا دیتی ہے. اس ہوس میں انسان جایُز اور ناجایُز کے چکر میں نہیں پڑتا. بس ، دولت آنی چاہیےُ، کسی بھی زریعے سے. اس کے لیےُ وہ حسب ذیل طریقے استعمال کرتا ہے ؛

نمبر 1 = رشوت

حکومتی اداروں میں رشوت عام ہے. بات یہاں تک پہنچ چُکی ہے کہ رشوت کو کویُ گُناہ نہیں سمجھا جا رہا . جتنا نڑا عُہدہ، اتنی زیادہ رشوت. رشوت دو اور نوکری لو. رشوت دو تھانے میں اپنے مُخالف پر پرچہ کٹوا دو. لوگ بھول چکے یا مجبُور ہو چکے ہیں کہ رشوت دینے اور لینے والا دونوں گنہگار ہیں.

نمبر 2 = ذخیرہ اندوزی

سرمایہ دار لوگ اشیاےُ ضروریہ کو جمع کر لیتے ہیں، مارکیٹ میں نہیں لاتے، اس طرح مصنوعی قلت پیدا ہو جاتی ہے. پھر مناسب وقت دیکھ کر اشیا کی پیمت بڑھا دیتے ہیں. ہمارے ہاں ایک ٍغلط اور گندا رواج ہے کہ ہم، جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں، رمضان آنے سے پہلے اشیا کا ذخیرہ کر لیتے ہیں، نیت یہ ہوتی ہے کہ رمضان کے با برکت مہینے میں یہی اشیا معمول سے 400 فی صد یا 500 فی صد سے زیادہ قیمت پر فروخت کریں گے. آج کل بھی یہی ہو رہا ہے. پیاز ایسی چیز ہے جس کے بغیر ہانڈی کا ذایقہ نہیں بنتا. ماہ رمضان سے سے پہلے یہ پیاز 60 روپے کلو میں بکتا تھا. ماہ رمضان میں یہ 250 روپے کلو میں بک رہا ہے. دکانداروں کا کہنا ہے کہ یہی مہینہ ہے جس میں ہم کچھ کماتے ہیں. ( کچھ نہیں بلکہ بہت کچھ کما رہے ہیں ) اسی موضوع پر روزنامہ جنگ ، لاہور 18 مارچ 2024 سن عیسوی کے شمارہ میں محترم انور شعور صاحب کا یہ قطعہ صفحہ نمبر 6 پر شایُع ہُؤا ہے :

جاری ہے قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ
کیسے نہ ہو، یہ وقت انہی ” حرکتوں” کا ہے
دن دُونی، رات چوگنی ہے آج کل کمایُ
رمضان کا مہینہ بڑی برکتوں کا نہے

نمبر 3، بھتہ خوری

دولت کی ہوس میں لوگوں نے دولت سمیٹنے کے نیےُ نیےُ طریقے ڈھونڈ لیےُ ہیں. بھتہ خوری کی ابتدا ہماری ایک نیُ سیاسی پارٹی کی طرف سے ہوُیُ. اب بھتہ خوری عام ہو گیُ ہے. مجرمان کسی شخص، بچے کو اغوا کر لیتے ہیں اور پھر مغوی کے لواحقین سے مغوی کی رہایُ کے بدلے موٹی رقم کا مطالبہ کرتے ہیں.
بھتہہ نہ ملنے پر مغوی کو قتل کر دیتے ہیں. انسان کتنا لالچی ہو گیا ہے. اخبارات مٰں اس قسم کی خبریں شایُع ہو رہی ہیں کہ کچّے کے علاقے کے ڈاکو لوگوں کو سستی موٹر کار دلوانے کا لالچ دے کر اپنے ساتھ لے جاتے ہیں پھر ان کو قید کر کے اُن سے کروڑوں روپوں کا بھتّہ مانگتے ہیں. مغویوں پر بے پناہ تشدّد کرتے ہیں . تشدّد کی ویڈیو بنا کرمغویوں کے لواحقیں کو بھیج دیتے ہیں. جو مجبور ہو کر ڈاکؤوں کو مطلوبہ رقم ادا کر کے اپنا آدمی چھُڑا لیتے ہیں.

نمبر 4 ، ڈاکہ زنی

آج کل لوگوں کو لُوٹنے کے واقعات عام ہو گیےُ ہیں. ٹی وی پر روزانہ یہ مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں ، کہ دو موٹر سایُکلوں پر سوار فیس ماسک پہنے دو یا تین آدمی راہگیروں کو گھیر لیتے ہیں ، اسلحہہ لہراتے ان کی تلاشی لے کر انہیں ان کی رقم اور موبایُل فون سے محروم کر دیتے ہیں ، اور پھر اسلحہ لہراتے یہ جا وہ جا. لوگوں سے ان کی موٹر سایُکل یا کاریں چھیننے کے واقعات بھی ہوتے ہیں. پولیس نے کیُ وارداتیوں کو پکڑا ہے ، ان سے چھینے ہوےُ موبایُل فون، موٹر سایُکلیں اور بھاری نقد رقمیں بھی برآمد کی ہیں . لیکن لوٹنے کے واقعات میں کمی نہیں آ رہی. منتظر ہیں کہ نیُ حکومت ان جرایُم کی روک تھام پر کیسے قابو پاتی ہے.

نمبر 5 – فراڈ

بچپن سے ایک کہاوت سُنتے آےُ ہیں کہ ” لالچ بُری بلا ہے “. انسان لالچ میں پھنس جاتے ہیں. فراڈیےُ لوگ انسان کی اس کمزوری سے فایُدہ اُٹھاتے ہیں. ایسے کیُ واقعات رونما ہو چُکے ہیں کہ کسی اخبار میں کسی نٰییُ ہاؤسنگ سوسایُتی کا اشتہار شایُع ہُؤا. جس میں پلاٹ کی قیمت دوسری ہاؤسنگ دوسایُٹیوں کے پلاٹوں سے بہت کم قیمت پر دینے کی پیشکش کی جاتی ہے. پلاٹ کی قیمت اقساط میں ادا کرنے کی پیشکش بھی کی جاتی ہے. سوسایُٹی کی لوکیشن کے نقشے دکھاےُ جاتے ہیں. عمدہ سجاےُ دفتر میں بٹھا کر لوگوں کو گھیرا جاتا ہے. پلاٹ کی ایڈوانس بکنک کے طور پر لوگوں سے پیسے بٹورے جاتے ہیں ، جب کافی رقم جمع ہو جاتی ہے تو غایُب ہو جاتے ہیں، اس کے علاوہ بھی کیُی فراٍڈییےُ مختلف سکیموں کے ذریعے لوگوں سے فراڈ کر چُکے ہیں. یہ فراڈییےُ لوگ لوگوں کو بہتر منافع کا لالچ دیتے ہیں. سادہ لوگ زیادہ منافع کے لالچ میں اپنی جمع پُونجی لُٹا بیٹھتے ہیں.

نمبر 6 – اُجرتی قاتل

دنیا کے کیُ ممالک میں اُجرتی قاتل مل جاتے ہیں. یہ اُجرتی قاتل اپنا معاوضہ ، جو عمومآ لاکھوں میں ہوتا ہے، پیشگی لے کر کسی کو بھی قتل کر سکتے ہیں. اپنے مُلک میں اس سے پہلے یہ سلسلہ نہیں چلا تھا. لیکن اب اخبارات میں شایُع خبروں سے ایسے قتلوں کی کہانیاں ملتی ہیں ، اپنے مُلک کے ایک نامور صحافی مسٹر ارشد شریف کو کینیا میں قتل کر دیا گیا تھا، یہ کام بھی کسی اجرتی قاتل کا ہو سکتا ہے. یہ قتل ایک عجیب گورکھ دھندا بنا ہُؤا ہے. صحافی پاکستان سے باہر کیوں گیا تھا؟ صحافی کو باہر بھیجنے میں کس نے مدد کی ؟ کیا اُسے اپنی جان کا خطرہ تھا؟ اگر خطرہ تھا تو کس سے تھا ؟. اُجرتی قاتل کون ہے ؟ حیران ہُوں کہ لوگ دولت کی ہوس میں ایسے آدمی کو قتل کر دیتے ہیں جسے وہ جانتے تک نہیں. کیا وہ بھُول جاتے ہیں کہ ان سے اس بات کی باز پُرس ضرور ہوگی کہ ان لوگوں کا کیا قصور تھا جنہیں اس نے اجرت لے کر قتل کیا

نمبر 7 – بلیک مارکیٹنگ

دولت کی ہوس کا ایک اور کارنامہ بلیک مارکیٹنگ ہے. اس مٰیں ضروریات زندگی کو مقررہ نرخ سے زیادہ قیمت پر بیچا جاتا ہے. اس کے شکار زیادہ تر کسان ہوتے ہیں. آج کل زمین میں کھاد نہ ڈالی جاےُ تو فصل نہیں ہوتی. اس لیےُ کسان بلیک مارکیٹ میں مجبورآ مہنگی قیمت پر کھار خریدنے ے پر مجبور ہیں. کھاد ڈالے بغیر تو کویُ فصل پیدا نہیں ہوتی. ٍفصل پیدا نہ ہو تو کھاییُں گے کیا.

دولت کی ہوس انسان کو آدمیّت کے نچلے درجے پر لا کھڑا کرتی ہے ، جہاں اُسے دولت اکٹھا کرنے کے سوا کُچھ نہیں سُوجھتا. یہ دولت بڑی بے وفا ہے ، آدمی جب مرنے کے بعد دفن ہوتا ہے تو اُس کے دونوں ہاتھ خالی ہوتے ہیں. اور اُس کی کمایُ ہویُ دولت یہیں سُنیا میں رہ جاتی ہے.

اوپر بیان کیےُ گےُ چند بڑے اقدامات ہیں جو دولت کی ہوس میں اُٹھاےُ جا رہے ہیں. اصل میں ہمیں اللہ کا خوف نہیں رہا. ہم یہ بھول گیےُ ہیں کہ کل کلاں کو ہم سے ہمارے اپنے اعمال کی جواب دہی بھی ہوگی. اللہ تعالے سے دُعا ہے کہ وہ ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی ہدایت اور توفیق عطا فرماےُ. آمین

5 Responses

  1. I genuinely appreciated what you’ve achieved here. The outline is tasteful, your written content fashionable, yet you appear to have acquired some uneasiness regarding what you wish to present forthwith. Undoubtedly, I’ll return more frequently, similar to I have almost constantly, should you sustain this upswing.

  2. I sincerely admired what you’ve produced here. The sketch is elegant, your written content chic, yet you appear to have developed some anxiety regarding what you aim to offer thereafter. Certainly, I shall return more frequently, just as I have been doing almost constantly, should you uphold this incline.

    1. Thanks a lot for your encouraging comments. Your comments grant me more power to share my knowledge to others.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *