Sipraworld4all

چھوٹی بچیوں کے گیت. Songs of little girls

چھوٹی بچیوں کے گیت
Songs of little girls.

آج سے پچاس ساٹھ سال پہلے جب کہ دیہات میں بھایُ چارہ کی فضا عروج پر تھی، گاؤں میں ایک دوسرے کی عزت تھی. لوگ چھوتی بچیوں کو اپنی بیٹیوں کی طرح سمجھتے تھے ، اور ان کی حفاظت کرتے تھے، اس زمانے میں لوگ مغرب کی نماز کے بعد جلد ھی کھانا کھا لیا کرتے تھے. یہی وقت ہوتا تھا جب چھوٹی بچیاں گاؤں سے باہر کسی کھُلی جگہ پر بیتھ کر اپنے معصُومانہ گیت گاتی تھیں. ان گیتوں میں کسی موسیقی کا دخل نہیں ہوتا تھا. بچیاں اپنی مدھم آواز میں گیت گاتی تھیں. یہ گیت عموُمآ بھایُ بہن کے پیار کے گرد گھوُمتے ہیں. بعض گیتوں میں بھابی سے چھیڑ چھاڑ بھی نظر آتی ہے.  مجمعُوعی طور پر یہ معصُومانہ گیت بھایُ اور بہن کے پیار کے گرد گھُومتے ہیں. چھوٹی بچیوں کے گیت اب یاد رفتہ بن گیےُ ہیں. اس کے برعکس مردوں کے لیےُ لوک گیت آج بھی بڑے شوق سے گاےُ اور سُنے جاتے ہیں. آپ چاہیں تو آپ اسی ویب سایُٹ پر ماہیا، دوہے، جگنی، جگّا، دُلاّ بھٹّی ، ہیر رانجھا، مرزا صاحباں بولیاں،چھلّا، ڈھولے وغیرہ پڑھ سکتے ہیں. میں آپ کو مشورہ دُوں گا کہ سب سے پہلے پنجابی ڈھولوں سے شروع کریں. ” پنجابی ڈھولے ، قسط نمبر 1 ” سے شروع کریں اور آگے پنجابی ڈھولوں کے اختتام تک پڑھ لیں.

عنوانات :

نمبر 1 بُلاوا.
نمبر 2 – ککلی.
نمبر 3 – دیگر موضوعات کے گیت:

بُلاوا

دیہات میں لوگ شام ڈھلے ہی کھانا کھا لیتے ہیں. کھانا کھا چُکنے کے بعد چھوٹی عمر کی دو چار بچیاں گلی میں کھڑی ہو کر آواز لگایُں گی.

چھنّا چھنک دا
موتی میرے نک دا
جھانجر میرے پیر دی
جیہڑی کُڑی شہر دی
آ جاؤ نی کُڑیو.

اردو ترجمہ:

چھنک کی آواز پیدا کرنے والا میرا زیور
میرے ناک کا موتی
میرے پاؤں کی جھانجر
شہر کی تمام لڑکیاں سُن لیں
آ جاؤ، مل کر گیت گانے کا وقت ہو گیا ہے.

یہ گویا ایک بُلاوا ہے کہ چھوٹی بچیاں ایک جگہ بیٹھ کر گیت گاییُں گی. جب ارد گرد کے گھروں سے بچیاں اکٹھّی ہو جاتی ہیں، تو گاؤں سے باہر کسی صاف جگہ پر بیٹھ کر بچیاں گیت گاییُں گی. کچھ لڑکیاں “ککلی ” ڈالنے لگ جاییُں گی. دو لڑکیاں ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر ایک دایُرے میں گھوُمتی ہیں. ساتھ ہی اُچھلتی ہیں، اسے ککلی ڈالنا کہتے ہیں. ساتھ ہی ککلی کا گیت گاتی ہیں.

ککلی

ککلی کا گیت چھوٹی بچیوں کا پسندیدہ گیت ہے. ذرا ککلی کا گیت سُنیےُ :

ککلی کلیر دی
پگ میرے ویر دی
دوپٹّہ میرے بھایُ دا
شیر سپاہی دا
اُچّی شان چاچے دی
لڑیاں والے کاکے دی
کاکڑا توتانی آں
چار چھلّے پانی آں
چار چھلّے کایُں دے
ویرے دے وہاہے دے
بھابو میری پتلی
جیہدے نک مچھلی
مچھلی دے دو مامے آےُ
میرا آیا جیٹھ
جیٹھے دی میں روٹی پکّی
نال پکیاں توریاں
جیُوہن بھراواں دیاں جوڑیاں

اردو ترجمہ :

کلیر کی ککلی ہے.
میرے بھایُ کے سر کی پگ ہے.
اُس کے کاندھے پر رکھا جانے والا رُومال ہے.
یہ رومال شیر کی مانند دلیر اور بہادر سپاہی کا رومال ہے.
میرا چچا اُونچی شان والا ہے.
وُہی چچا جسے لوگ پیار سے ” لڑیوں والا کاکا ” کہتے ہیں.
میں کاکے کی شان میں قصیدہ پڑھتی ہُوں.
میری اُنگلیوں میں چار چھلّے ہیں.
تم پوچھتی ہو یہ چھلّے کس خُوشی میں پیہنے تھے.
یہ چھلّے میں نے اپنے بھایُ کی شادی پر پہنے تھے.
میری بھابھی پتلی سی ہے.
اُس کی ناک میں پہنا ہُؤا زیور مچھلی کی شکل کا ہے.
مچھلی سے ملنے اُس کے دو مامُوں آےُ،
ساتھ میں میرا جیٹھ بھی آیا. (خاوند کے چھوٹے بھایُ کو دیور اور بڑے بھایُ کو جیٹھ کہتے ہیں ).
میں نے جیٹھ کے لیےُ روٹی پکایُ.
روٹی کے ساتھ توریوں کا سالن بنایا.
اللہ کرے، بھایُٰوں کی جوڑی سدا سلامت رہے.

غور کیجییےُ، بچیوں کے اس معصوم گیت کا موضُوع ماں باپ، چاچے، بھایُ اور بھابھیاں ہیں، جو اس عمر کی بچیوں کے پیار کا محور ہوتے ہیں. اور ان کے گیتوں میں انہی کا ذکر آتا ہے.

دیگر موضُوعات کے گیت

اب چھوٹی بچیاں ایک دایُرے میں بیٹھ کر گیت گاتی ہیں.

میں نکّا نکّا کتنی آں ویر دے پگّے، بھین گھولی وے ویرا
وچ نو سو ( 900 ) موتی لگّے، وے بھین گھولی وے ویرا
دُھپ چڑہی تے چمکن لگّے، وے بھین گھولی وے ویرا
موٹا موٹا کتنی آں دیورے دی پگّے، وے بھین گھولی وے ویرا
جتھّے نو سو ( 900 ) ڈیہمُوں لگّے، وے بھین گھولی وے ویرا
دُھپ چڑہی تے کھوہن کھاہن لگّے، وے بھین گھولی وے ویرا

اردو ترجمہ

بھایُ کی پگ کے لیےُ میں سُوت کو بہت باریک کاتتی ہُوں، بہن بھایُ پر صدقے جاےُ.
سُوت کے دھاگوں میں 900 موتی ٹانگ دیتی ہُوں.
دھُوپ میں یہ موتی چمکتے ہیں، میرے بھایُ کی پگ کی کیا شان ہے.
اپنے دیور کی پگ کے لیےُ میں سُوت کو موٹا موٹا کاتتی ہُوں.
اس پگ کے اندر 900 بھڑ بیتھے ہیں.
دھوپ نکلنے پر جس کے سر پر یہ پگ ہوگی ، اُسے خوب کاٹیں گے.

ؤضاحت ” بھین گھولی وے ویرا ” ہر مصرے کے آخر میں مصرعے کے وزن کو برابر کرنے کے لیےُ لگاتے ہیں.
خاوند کے بڑے بھایُ کو ” جیٹھ ” اور چھوٹے بھایُ کو ” دیور ” کہا جاتا ہے. لڑکیاں اپنے جیٹھ کی اپنے بڑے بھایُ کی طرح عزّت کرتی ہیں.اور دیور سے چھوٹے بھاٰیُ کی مانند پیار کرتی ہی. دیور بھابھی کا مذاق ، ایک حد کے اندر، چلتا رہتا ہے.

لڑکیاں اپنے والدین سے بہت پیار کرتی ہیں. اپنے میکے پر انہیں پڑا فخر اور مان ہوتا ہے.

تاریا وے تیری لو ، پیکے ماواں نال
ماواں ٹھڈیاں چھاواں، مان بھراواں نال

اردو ترجمہ:

ستارے کی روشنی ہے، میکہ اُس وقت تک میکہ رہتا ہے ، جب تک ماں زندہ ہے.
ماییُں تو درخت کی گھنی چھاؤں کی مانند ہوتی ہیں. میکے پر فخر اور دعوے بھاییُوں کی وجہ سے ہوتے ہیں.
پنجابی کا لفظ ” مان ” اپنے اندر وسیع معنی رکھتا ہے. کسی کی لاج رکھ لینا، فخر، دعوے، اُمید، عزّت بڑھانا وغیرہ سبھی اس کے معنی میں آتے ہیں.

یہ گیت بھی سُنیےُ، اس میں بھایُ اور بھابھی کا ذکر ہے “

توتڑا توتایُ دا
نیلا گھوڑا بھایُ دا
اُچّی شان چاچے دی
لڑیاں والے کاکے دی
کاکڑا کھڈانی آں
چار چھلّے پانی آں
اک چھلّا پتلا
بھابھو جوڑا اُتلا
رتّے دی رتایُ
میری نویں نویں بھرجایُ
منجے پیڑھے تے بہایُ
منجا پیڑھا گیا ٹُٹ
میری بھابھو گییُ رُس

اردو ترجمہ :

میں توتڑا نامی کھیل کھیلتی ہُوں.
میرے چھوٹے بھایُ کے گھوڑے کا رنگ نیلا ہے.
میرا چچا بڑی اُونچی شان والا ہے.
وُہی چچا جسے لوگ پیار سے ” لڑیوں والا کاکا ” کہتے ہیں.
کاکڑا نامی کھیل کھیلتی ہُوں.
میری اُنگلیوں میں چار چھلّے ہیں.
ان میں ایک چھلّا دُوسروں کی بہ نسبت باریک پے.
میری بھابو کے کپڑوں کا رنگ سُرخ ہے.
سُرخ رنگ کی سُرخی دیکھو.
میری بھابھی نییُ نییُ آیُ ہے.
اُسے بڑے شوق سے پیڑھے پر بٹھایا .
پیڑھا ٹؤٹ گیا.
اس بات پر میری بھابھی رُوٹھ گییُ..

چھوٹی بچیاں جب اپنے چھوٹے بھاییُوں، بھتیجؤں یا بھتیجیوں کو روتے ہُوےُ چُپ کرانے کی کوشش کر رہی ہوتی ہیں تو اُن کے لبوں پر عمُومآ یہ گیت ہوتا ہے . یہ گویا ایک قسم کی معصومانہ لوری ہے :

الڑُ ّ بلڑّ باوے دا
باوا کی لیاوے دا
باوا کنک لیاوے دا
باوی بہہ کے چھٹّے دی
باوی روٹیاں پکاےُ دی
باوا چھوہر کھڈاےُ دا

اردو ترجمہ

بابے کا الڑّ بلڑّ ہے. ( باپ کے بڑے بھایُ کو بابا کہتے ہیں. یہاں غالبآ شعری ضرورت کے تحت اُسے باوا کہا گیا ہے ).
باوا کیا لاےُ گا.
باوا گندم لاےُ گا.
بڑی امّاں ( تایُ ) گندم کو صاف کرے گی.
پھر اس کی روٹیاں پکاےُ گی.
بابا چھوٹے پوتے پوتیوں کے ساتھ کھیلے گا.
پنجابی زبان میں چھوتے لڑکے کو ” چھوہر ” کہ کر بھی بُلایا جاتا ہے.

آج سے چھے سات دہایاں پہلے دیہات کی فضا بڑی پُر امن اور مہزّب ہُؤا کرتی تھی. ہر شخص ایک دوسرے کی عزّت کرتا تھا. جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، تہزیب بدل گیُ. لوگ بدل گیےُ. ایک مسیاسی جماعت نے وُہ طوفان بد تمیزی مچایا ہے کہ الامان. اب نہ وہ چھوٹی بچیوں کے گیت سُنایُ دیتے ہیں نہ لوگوں کا اکٹھے بیٹھ کر قصّے کہانیاں سُننا رہا. لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف کر دیا گیا ہے. قتل و غارت اور ڈاکہ زنی ّعام ہو گیی ہے. لوگ سڑکوں پر راہ جاتے لُت رہے ہیں. بد اخلاقی اور بد زبانی کے کلچر کو ایک منصوبے کے تحت پھیلایا جا رہا ہے. مہذب لوگ پریشان ہیں ہیں کہ ہم کدھر جا رہے ہیں.

اللہ تعالے ہم سب پر اپنا رحم کرے اور ہمیں اس فتنہ سے بچاےُ آمین.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *