Sipraworld4all

پنجابی لوک گیت ماہیا – Mahia – قسط نمبر 3

پنجابی لوک گیت ماہیا – Mahia –
قسط نمبر 3

 ماہیا کی تیسری قسم میں چار مصرعے ہوتے ہیں. پہلے دو مصرعے ہم قافیہ اور ہم ردیف ہوتے ہیں. اور بعض اوقات دونوں ٹکڑوں کا موضوع ایک ہی ہوتا ہے. جو ماہیا کا لطف دو بالا کرنے میں مدد گار بن جاتے ہیں. تیسرے اور چوتھے مّصرعے کا ہم وزن ہونا ضروری ہوتا ہے. پہلے دو اور آخری دو مصرعوں کا ہم قافیہ ہونا ضروری نہیں. اگر ہو جاییُں تو واہ. چارون ٹکڑے مل کر اردو زبان کی رُباعی کی شکل اختیار کر لیتے ہیں. آصل مطلب یا زور ماہیا کے آخری ٹُکڑے میں ہوتا ہے. اس آخری ٹکڑے میں جیسے تمام موضوع کو سمیٹ لیا جاتا ہے. ماہیا کی یہ تیسری قسم آج کل زیادہ مقبول ہے کیونکہ اس کے ساتھ مدہم آواز میں ڈھولک یا طبلے کی تھاپ سماں باندھ دیتی ہے.
پنجابی لوک گیت ماہیا قسط نمبر 2  پڑھنے کے لیےُ اس لنک پر کلک کریں.
تیسری قسم کے ماہیےُ کی کچھ مثالیں یہ ہیں :

ماہیا نمبر 1

لگا جانا این سرکے سرکے وے
تیرے پلّے دوانی کھڑکے وے
اُڈ ونج طوطا خبراں لیا دے لمّے دیاں
کھلی اُڈیکاں تاہنگاں تیرے دمّے دیاں
اردو ترجمہ: تم سڑک پر جا رہے ہو
تمہاری جیب میں دونّی کھڑک رہی ہے.
اے طوطے! اُڑو اور دُور دیس کے باسیوں کی کچھ خبر لاؤ.
میں تمہارے انتظار میں کھڑی ہُوں. تمہیں دیکھنے اور ملنے کی شدید خواہش ہے.

ایوب خان کے زمانے سے پہلے ایک روپیہ میں سولہ آنے ہوتے تھے، دو آنے کے سکّے کو ” دوانی ” کہتے تھے.‌

ماہیا نمبر 2
میں ایتھے تے ماہی میرا بھیرے
سڑ گیاں ہڈیاں سُک گیےُ بیرے
کلا ہلا درزی کویُ چولے نوں لا گھیرا
آ بوہ سامنے، لگّے ٹھکانے رُوح میرا
اردو ترجمہ: میں یہاں ہُوں اور میرا محبوب بھیرہ میں رہ رہا ہے.
جُدایُ میں ہڈیاں تک جل گییُ ہیں اور سارا جسم سُوکھ گیا ہے.
اے درزی ! تم مشین سے میرے کرتے کے گھیر کو درست کر دو.
میرے محبوب ! میرے سامنے آ ؤ ، تا کہ میری رُوح کو آرام ملے.

ماہیا نمبر 3

میں ایتھے تے ماہی میرا دھُنّی وے
ماریا کُوڑ تے سچ کر منّی وے
جھلّی دیا وے ڈھولا، اک کھکھڑی دا بیں پولا
ہاےُ میری توبہ، اک واری رُٹھّا منیں ڈھولا
اردو ترجمہ: میں یہاں ہُوں اور میرا محبوب ڈھُنّی میں ہے ( دھُنّی تحصیل پھالیہ، ضلع منڈی بہاؤلدین کا ایک گاؤں ہے )
میں نے تو وہ باٹ جھُوٹ مُوٹ میں کہی تھی، تم نے سچ مان لیا.
میرے محبوب ! ایک دفعہ مان جاؤ، آیُندہ کے لیےُ میری توبہ، ایسی بات کبھی نہیں کہوں گی.

ماہیا نمبر 4

میں ایتھے تے ماہی میرا کھایُ وے
نکی ساری بدلی جھڑ کر آیُ وے
منڈی دی گُجری دُدھ پییُ پیوے گلاسے نال
مندا نہ تھیویں، اساں گل کیتی آ ہاسے نال
اردو ترجمہ : میں یہاں ہُوں اور میرا محبوب موضع کھایُ میں رہ رہا ہے.
بادل کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے نے سایہ کر رکھا ہے.
منڈی کی گُجری گلاس میں دُودھ پی رہی ہے. (گھر گھر دودھ بیچنے والی عورت کو گُجری کہتے ہیں )
میری بات سے دل چھوٹا نہ کرنا. میں نے تو یُوں ہی مذاق میں یہ بات کہہ دی تھی.

ماہیا نمبر 5

میں ایتھے تے ڈھول سوہاوے وے
راتیں سُتیاں نیند نہ آوے وے
رات ڈراوے وے ماہی ، رتّے لال سرہانے نی
نویاں دے لڑ لگ کے بھُلّے یار پُرانے نی
اردو ترجمہ ؛ میں یہاں ہُوں اور میرا ساجن موضع سوہاوہ میں رہتا ہے ( موضع سوہاوہ منڈی بہاؤالدین سے کچھ فاصلے پر واقع ہے‌).
ساجن کے فراق میں رات کو نیند نہیں آتی.
رات ڈراؤنی لگتی ہے، میرے پاس سُرخ رنگ کے تکیے ہیں.
نیُ دوستیوں کے خمار میں تُم پُرانے یاروں کو بھُول گیےُ.

ماہیا نمبر 6

میں ایتھے تے ڈھولا ساڈا پنڈ وے
تیرے بُتے وچ ساڈی جند وے
کُوڑ مرینا ایں اک لاٹو بھیں ویندا
بُرا وچھوڑا اندر بندے دا کھا ویندا
اردو ترجمہ ؛؛ میں یہاں ہُوں اور میرا محبوب اپنے گاؤں میں ہے.
مت بھُولو، میرے جان تمہارے جسم میں ہے،
جھُوٹ مت بولو، جُدایُ بہت بُری چیز ہے، یہ انسان کو اندر سے بالکل کھوکھلا کر دیتی ہے.

ماہیا نمبر 7

بازار کھڈیندا گتکا وے
لنگھ گیوں کنواریا وقتا وے
ڈٹھا پرنیواں ، کویُ کُنڈے کڑاہیاں دے
حُسن کنواریاں دا مندے حال وواہیاں دے
اردو ترجمہ : بازار میں گتکا کھیلا جا رہا ہے.
کنوار پنے کا زمانہ بیت گیا.
پھر شادی کے بعد کا زمانہ بھی دیکھ لیا.
حُسن تو کنواری لڑکیوں کا ہی ہوتا ہے. شادی کے بعد تو حُسن جیسے اُجڑ جاتا ہے.

ماہیا نمبر 8

اسی ایتھے تے ماہی ساڈا پنڈ وے
دو بُت تے اکّو ساڈی جند وے
جھلّی دیا وے ڈھولا، کویُ نوبت وگ گییُ آ
کچ دیاں ہڈیاں ، ٹھوکر ظُلم دی لگ گییُ آ
اردو ترجمہ: میں ہیاں ہُوں اور میرا ساجن اپنے گاؤں میں ہے.
بظاہر ہمارے دو علیحدہ علیحدہ جسم ہیں. لیکن جان دونوں کی ایک ہی ہے.
پگلی کے محبوب! نقارہ بج گیا ہے.میری ہڈیاں کانچ کی طرح نازک تھیں ، جنہیں جُدایُ کی بڑی زبردست ٹھوکر لگی ہے.

ماہیا نمبر 9

بازار وکیندی برفی وے
میری نکیّ ساری رانگلی چرخی وے
میریا وے ماہیا، کویُ ساگت گھوڑے دی
دُکھاں دیاں پُونیاں تند پییُ کڈھااں وچھوڑے دی
اردو ترجمہ : بازار میں برفی فروخت ہو رہی ہے.
میں اپنے چھوٹے سے رنگیلے چرخے پر سُوت کات رہی ہُوں.
میرے محبوب ! گھوڑے کی زین کا سامان ہے.
مین چرخے پر دُکھوں کی رُویُ سے ہجر کے تار نکال رہی ہُوں.

آخری مصرعہ میں ” دُکھوں کی رُویُ ” نے گیت گانے والی کی ساری کیفیت ، اس کا ماضی، حال، اس کے آنسُو اور اضمحال کو اُجاگر کر دیا ہے

ماہیا نمبر 10

بازر وکیندی تختی وے
سوہنی رن جنے دی سختی وے
کنجر سدیناں وے کویُ سونے دیان کاتا ں نی
ذات نہیں رلدی ، دل رلنے دیاں باتاں نی
اردو ترجمہ : بازار میں تختیاں فروخت ہو رہی ہیں.
خوبصورت بیوی ، اپنے سے کم خوبصورت خاوند کو بہت ذلیل کرتی ہے.
روزانہ کا جھگڑا، خاوند “کنجر” مشہور ہو جاتا ہے، سونے کی تاریں ہیں.
دونوں کی ذات ( قبیلہ) ایک نہیں ہوتی مگر دل ایک ہو جاتے ہیں.

ماہیا نمبر 11

میں ایتھے تے ڈھول دھریکیں
گھُنڈ لاہ کے مُکھ میرا ویکھیں
کانگ بنیرے دیا کویُ دوہنی دُودھ جوگی
نہ پرنیساں، بیٹھی رہساں تُدھ جوگی
اردو ترجمہ : میں یہاں ہُوں، اور میرا محبوب مجھ سے دور موضع دھریکاں میں رہتا ہے. ( موضع دھریکاں ، تحصیل پھالیہ، ضلع منڈی بہاؤالدین کا ایک گاؤں ہے ).
میں اس انتظار میں ہُوں کہ تم شادی کے بعد میرا گھونگت اُٹھا کر میرا چہرہ دیکھو،
مُنڈیر پر بیٹھے کوّے!، یہ برتن دُودھ کے لیےُ ہے
میں تمہارے سوا کسی اور سے شادی نہیں کروں گی، تمہارے لیےُ کنواری بیٹھی رہُوں گی.

ماہیا نمبر 12

میں ایتھے تے ڈھول کُنجاہ وے
میرا سُکیا رہندا ساہ وے
بابی دیان باغاں وچ کویُ پترا پان دیا
دلاں دیا کھوٹیا، ڈھولُو مٹھّی زبان دیا
اردو ترجمہ ؛ میں یہاں رہتی ہُوں اور میرا ساجن موضع کنجاہ میں رہتا ہے. ( کنجاہ ضلع گجرات کا مشہور قصبہ ہے ).
تمہاری جُدایُ میں میرا سانس اُکھڑا اُکھڑا رہتا ہے.
بابی کے باغوں میں سے پان کا ایک پتّہ لیا.
میرے محبوب ! تم زبان کے تو بڑے میٹھے ہو، لیکن تمہارے دل میں کھوٹ ہے.

ماہیا نمبر 13
اسی ایتھے تے ڈھولا بھیرے وے

اُچیاں ماڑیاں تے ڈُوہنگے ویہڑے وے
کُوڑ مریناں ایں، کویُ کنکاں چُگایُ وتدے
تیرے پچھّے ڈھولا دل مسکین کھڑایُ وتدے
اردو ترجمہ: میں یہاں ہُوں اور میرا ماہی بھیرہ میں رہتا ہے. ( بھیرہ ضلع سرگودھا کا مشہور قصبہ ہےجہاں سے لاہور-اسلام آباد موٹروے بھی گزرتی ہے )،
بھیرہ میں اونچی اونچی عمارتیں ہیں ، جن کے صحن گہرے ہیں.
تم جھوٹ بول رہے ہو، گندم کی فصل کٹ جانے کے بعد وہاں مویشی چر رہے ہیں.
میرے محبوب ! تم جانتے ہو کہ ہم تم پر اپنا دل نچھاور کر چُکے ہیں.

پنجابی لوک گیت ماھیا کی دُنیا اتنی وسیع ہے کہ اسے احاطہ تحریر میں لانا مشکل ہے اوپر دی گییُ ہویُ چند کلیان بطور نمونہ سمجھی جاییُں .

پنجابی لوک گیتوں کی محفل یہاں پر ختم ہو رہی ہے. اگلی ًمحفل میں پنجابی زبان میں لکھے گیےُ قصّوں پر بات ہو گی.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *