Sipraworld4all

پنجابی اکھان ، ردیف ” ق” نمبر 3 -1- ردیف “ک” نمبر 6 -1

پنجابی اکھان ، ردیف ” ق ” 3 – 1

آپ نے قبرستانوں میں بعض قبروں پر بڑے بڑے سفید مقبرے بنے دیکھے ہوں گے. اب یہ اللہ کے سوا کویُ نہیں جانتا کہ ان مقبروں مین دفن مُردے دوزخی ہیں یا جنتی. بھلا ایک مُردے کو کیا ثواب ملے گا اگر اس کی قبر پر بڑا سا مقبرہ بنا دیا جاےُ. ایسے مقبرے عمومآ پانچ سے چھ قبروں کی جگہ گھیر لیتے ہیں. یعنی سادہ قبر میں دفن کیےُ جاتے تو اس جگہ پر پانچ یا چھ مزید قبریں بنایُ جا سکتی تھیں. یعنی مردہ مرنے کے بعد بھی ناجایُز قبضہ کرنے سے باز نہیں آیا. ردیف ق کے پہلے اکھان میں اسی طرف توجّہ دلایُ گییُ ہے.

مذید پنجابی اکھان پڑھیےُ:

نمبر 1 – قبر چونے گچ مردہ دوزخی
قبر کو دیکھو، کیا عالی شان مقبرہ ہے، سارے مقبرہ پر سفید رنگ کیا ہؤا ، ایک مردے نے آٹھ دس مردوں کو دفنانے کی جگہ گھیری ہویُ ہے. دوسرے الفاظ میں آٹھ دس مردوں کا حق مارا ہؤا ہے. ایسا لگتا ہے اس مقبرے میں دفن مردہ دوزخی ہے.
عام آدمی کی قبر بڑی سادہ سی ہوتی ہے. زیادہ سے زیادہ قبر کی چاردیواری پختہ اینٹوں کی بنی ہوتی ہے. قبر کے تعویذ پر دفن شدہ مردے کے نام کی تختی لگی ہوتی ہے. ایسی قبر زیادہ سے زیادہ 4 فٹ چوڑی اور 7 فٹ لمبی ہوتی ہے. اس کے برعکس نام نہاد پیروں کی قبر کا سایُز تو یہی ہوگا لیکن اس پر بنایا گیا مقبرہ آٹھ دس مردوں کو دفنانے کی جگہ گھیر لیتا ہے. ایسے پیر زندگی میں بھی دوسروں کے مال پر عیش کرتے ہیں اور مرنے کے بعد بھی ناجایُز تجاوزات کے مرتکب ہوتے ہیں. قیامت کے دن یہ نہیں دیکھا جاےُ گا کہ جس کی قبر کچّی ہے اسے زیادہ عذاب ہو گا اور پختہ مقبرے والے کی زیادہ عزّت کی جاےُ گی. اس دن عدالت اللہ جل جلا لہ کی ہو گی جہاں اعمال کے مطابق جزا یا سزا ہوگی.

نمبر 2 – قد اتّے لد
کسی کا قد دیکھ کر ہی اس پر بوجھ ڈالا جاتا ہے.
دوسرے الفاظ میں ” حصّہ بہ قدر جسّہ “.

نمبر 3 – قاقضی دے گھر دے چوہے وی سیانے
جس طرح قاظی عقلمند ہے ، اسی طرح قاضی کے گھر میں رہنے والے چوہے بھی عقلمند ہوتے ہیں.
قاضی لازمآ اسے بنایا جاتا ہے جو تعلیم یافتہ ہو، اسے مختلف علوم میں مہارت ہو، حالات، واقعات سے درست نتیجہ اخذ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو. ایسے آدمی کی صلاحیت کا اثر گھر کے چوہوں پر بھی پڑنا چاہیےُ.

پنجابی اکھان، ردیف ” ک ” 6 – 1

نمبر 1 – کھان نوں داند کمّے نوں وچھّا
جب کچھ کھلانے کو ہوتا ہے تو وہ جوان بیل کو کھلا دیتے ہیں، جب ہل جوتنے یا کویُ ا ور کام کا وقت ہوتا ہے تو نظر بچھڑے پر ہی پڑتی ہے.
کویُ اچھی چیز کھلانی ہو تو بڑے بھایُ کو کھلا دیتے ہیں، اور جب کام کرنا ہو تو چھوٹا بھایُ. یہ کہاوت ایسے ہی کسی وقت پر کہی گیُ ہوگی.
جوان بیل کو پنجابی زبان میں ” داند ” اور بچھڑے کو ” وچھّا‌” کہتے ہیں.

نمبر 2 کچجّی پھڑی چجّاں نوں وخت پیا جگّاں نوں
بے سلیقہ عورت کو تھوڑا سا سلیقہ آ گیا. اب ہر گھر میں جا کر کہتی ہے، یہ کرو، وہ کرو. وہ چیز یہاں رکھ دو، یہ وہاں رکھ دو.
” چج ” پنجابی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ہیں سلیقہ. چجّی کا مطلب ہے سلیقہ والی. کچجّی کا مطلب ہے بے سلیقہ. پنجابی زبان کے بعض الفاظ کے شروع میں “ک” لگا دینے سے معنی الٹ ہو جاتے ہیں. جیسے چجّی سے کچجّی .

نمبر 3 – کل ویاہی گدڑی ساون لتھّا مینہ
کل ہی تو مادہ گیدڑ کی شادی ہویُ تھی، اور آج ہی ساون کے مہینہ کی برسات شروع ہو گیُ.
یہ کہاوت ایسے موقعوں پر کہی جاتی ہے جب کویُ شخص کویُ کام کرے اور اس کا نتیجہ فورآ ہی ظاہر ہو جاےُ.

نمبر 4 – کوہ نہ ٹری بابا ترہاُیُ
ابھی ایک کوس بھی پیدل نہیں چلی، اور کہنے لگی ” بابا‌! مجھے پیاس لگی ہے “.
یہ کہاوت ایسے موقعوں پر کہی جاتی ہے جب کویُ آدمی تھوڑا سا کام کر کے بیٹھ جاےُ اور کہے ” میں تھک گیا ہوں “.

نمبر 5 – کھاندے یار مریندی کانی
عورت اپنے خاوند کی جمع کی ہویُ پونجی اپنے دوستوں پر لٹاتی رہی. خاوند کو ضرورت پڑی، پوچھا ” میرے جمع کیُ ہوےُ روپے کہاں ہیں “. عورت یہ تو بتانے سے رہی کہ وہ تو میرے یار کھا گےُ . کویُ اور بہانہ کر دیا. خاوند کو مطمُن نہ کر سکی. اس نے عورت کی پٹایُ کر دی.
اس کیاوت کو سمجھنے کے لیےُ موجودہ حکومت کی مثال لے لیں. یہ نا اہل تو خود ہیں، انہیں یہ نہیں پتہ کہ ملک کو کیسے چلایُں. وزیروں، مشیروں کی فوج ظفر موج رکھی ہے سب ٹامک ٹویُاں مار رہے ہیں، روز مرّہ ضروریات کی قیمتیں آسمان تک پہنچ چکی ہیں. ہر کام کا نتیجہ الٹ نکل رہا ہے. نس ایک ہی تکرار ہے کہ یہ سب سابقہ حکعمتوں کی وجہ سے ہے. ناچ نہ جانے ، آنگن ٹیڑھا والی بات ہو رہی ہے.

نمبر 6 – کھاوے رچھ مریوے بوجو
ریچھ سب کچھ کھا گیا. پاس بندھی بندریا کو حساب دینا پڑا.
اردو زبان میں اس کا ہم معنی محاورہ یوں ہے ” طویلے کی بلا بندر کے سر “.
چھوٹی بندریا کو پنجابی زبان میں ” بوجو ” کہتے ہیں.

پنجابی اکھان ردیف ع نمبر 6-1    پڑھنے کے لیےُ اس لنک پر کلک کریں.

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *