Sipraworld4all

ً مجھے گداگروں سے بچاؤ – Save me from beggars.

 

.
.

مجھے گداگروں سے بچاؤ
Save me from beggars.

مجھے گداگروں سے بچاؤ ، یہ منلک عزیز کے عوام کی ایک پُکار ہے . ہم
مسلمان جبلّی طور پر رحم دل ہیں. اور حتے المقدُور ضرورتمندوں کی ضرُورت پُوری کرنے پر ہر وقت تیّار رہتے ہیں. اللّہ تعالے کا فرمان ہے کہ غریبوں اور حاجت مندوں کو اُن کا حق دو. ٰیہاں اللہ تعالے نے یہ حکم نہیں دیا کہ غریبوں اور حاجت مندؤں کی مد کرو. بلکہ یہ حکم دیا ہے کہ ” غریبوں اور حاجت مندوں کو اُن کا حق دو “. ہم مسلمان اللہ تعالے کے اس حکم پر عمل کرنے کی حتے الوسع کوشش کرتے ہیں. لیکن لوگوں کی رحم دلی سے اکثر لوگ ناجایُز فایُدہ اُٹھاتے ہیں. اس آرٹیکل میں ہم اسی موضوع پر بات کریں گے.

عنوانات :

اللہ تعالے کا فرمان.
صدقات کہاں خرچ کیےُ جاییُں ؟
رحم اور گداگر.
گداگروں کی اقسام.
مانگنے کے طریقے.
حکُومت کیا کر رہی ہے ؟
گداگری کیسے ختم ہو !

اللہ کا فرمان.

اللہ تعالے نے اپنے آخری پیغام ” قُرآن ” میں مُسلمانوں کو حُکم دیا ہے

حقیقت یہ ہے کہ صدقات تو در اصل فُقرا، اور سایُلیں کے لیےُ ہیں. اور اُن کے لیےُ جو صدقات کے کام پر مامُور ہیں. اور اُن کے لیےُ جن کی تالیف قلب مقصود ہو. اور گردنوں کے چھُڑانےاور قرض داروں کی مدد کرنے، اور اللہ کی راہ میں، اور مسافر نوازی میں خرچ کرنے کے لیےُ ہیں. یہ ضابطہ ہے اللہ کی طرف سے، اور اللہ سب کُچھ جاننے والا اور بڑی حکمت والا ہے ” . ( آیت نمبر 60، سوُرہ التوبہ.)

خرچ کرو ایسے حاجت مندوں پر جو اللہ کی راہ میں رُکے بیٹھے ہیں، اور زمین پر چلنے  پھرنے کی طاقت نہیں رکھتے. ایک ناواقف آدمی اُنہیں خوشحال سمجھتا ہے کیونکہ وُہ کسی سے سوال نہیں کرتے. تُم انہیں اُن کے چہرے سے پہچان سکتے ہو. اور وُہ لوگوں کے پیچھے پڑ کر نہیں مانگتے. ” ( آیت نمبر 273، سُورہ البقرہ ) .

تُم اپنے صدقات علانیہ دو تو یہ بھی خُوب ہے، اور اگر انہیں چھپاؤ، اور حاجتمندوں کو دو، تو یہ تمہارے لیےُ زیادہ بہتر ہے. وہ ( اللہ ) تُمہاری کچھ بُرایٰیاں دُور کرے گا. اور اللہ تمہارے کاموں سے پُوری ظرح با خبر ہے. “. آیت نمبر 271، سؤرہ البقرہ.

اللہ تعالے کے انہی احکامات کی روشنی میں مسلمان اپنے مال و زر سے حاجت مندوں کی ضرورت پُوری کرتے رہتے ہیں. اُوپر والی آیات میں ” خرچ کہاں کریں ؟ ” کا جواب موجُود ہے. ہم جو کُچھ فقرا اور مساکین کو دیتے ہیں، یہ ایک قسم کا صدقہ ہے. صدقہ بلا کو ٹالتا ہے، اسی لیےُ مسلمان کھُلے دل سے خیرات دیتے ہیں.

صدقات کہاں خرچ کیےُ جاییُں ؟

مندرجہ بالا آیات کی رُو سے صدقات درج ذیل جگہوں پر خرچ کیےُ جاییُں.

نمبر 1 : صدقات فقرا اور سایُلین کو دیےُ جایُیں.

نمبر 2 : صدقات اُن لوگوں پر خرچ کیےُ جآٰٰیُیں جو حکومت کی طرف سے صدقات اور زکات اکٹھے کرنے پر مامور ہیں. ( تنخواہیں وغیرہ ).

نمبر 3 : کویُ غیر مُسلم اسلام قبُول کرے ، اور وُہ تنگ دست ہو، اُسے خیرات دی جا سکتی ہے.

نمبر 4 ؛ غلاموں کو آزاد کرانے اور مقرُوض کا قرض ادا کرنے میں بڑا ثواب ہے.

نمبر 5 : تنگ دست مُسافروں کو صدقات دینا بھی اللہ کا حُکم بجا لانے کے مترادف ہے.

نمبر6 : آپ کے ارد گرد کیُ ایسے لوگ ہو سکتے ہیں جو صدقات کے مستحق ہیں، لیکن وہ کسی سے مانگتے نہیں. ایسے ہی لوگ صدقات کے مستحق ہیں.

نمبر 7 : ایسے لوگوں کو خیرات نہ دینے میں کویُ حرج نہیں جو مانگتے ہُوےُ پیچھے پڑ جاییُں.

کچھ عرصہ سے اپنے مُلک میں بھکاریوں کی تعداد میں اتنا اضافہ ہُؤا ہے کہ لگتا ہے آدھا مُلک بھکاری ہے. غریبوں اور مساکین پر رحم کھا کر انہیں خیرات دینا اچھّی بات ہے، لیکن یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا مانگنے والا خیرات لینے کا صحیح حقدار ہے ؟. یہ جانچنا بڑا مُشکل ہے. فرض کریں ہم کسی بھکاری کو نہیں جانتے کہ وُہ واقعی خیرات کا حقدار ہے یا ہمارے رحم کے جذبہ کو اُبھار کر ہماری جیب سے کچھ نکلوانا چاہتا ہے !. اگر وُہ اپنی غلط بیانی سے ہمیں گُمراہ کر رہا ہے ، اور ہم اُسے حسب جیب کُچھ دے دیتے ہیں، کیا ہم اُسے یہ غلط کام کرنے کی ہلّہہ شیری نہیں دے رہے ؟ کیا ہم اس طرح بھکاریوں کی تعداد میں اضافہ کا مُوجب نہیں بن رہے ؟

بھکاریوں کی اقسام :

آج کل بڑے بڑے فنکار بھکاری ملتے ہیں. ان کی تھوڑی سی تفصیل کچھ یُوں ہے .

نمبر 1 ؛ پیشہ ور بھکاری

کچھ بھکاری جدّی پُشتی بھکاری ہوتے ہیں. اور ہر روز ہر کسی سے ، ہر شے مانگنے کو اپنے ” روزگار ” کا درجہ دیتے ہیں. شہروں کی پُرانی آبادیوں کے ارد گرد ایک قوم اپنے ڈیرے ڈال لیتی ہے. انہیں ” اوڈ ” کہتے ہیں. یہ کپڑے کی جھُگیوں میں رہتے ہیں. ان کی عورتیں روزانہ صُبح مانگنے کو نکل پڑتی ہیں. یہ عورتیں ہر بڑے جنرل سٹور کے سامنے کھڑی ہوتی ہیں ، اور سٹور سے باہر نکلنے والے ہر شخص سے سامنے ہاتھ پھیلا دیتی ہیں. بڑی بُو ڑھیوں کو کسی چوک میں بٹھا دیتے ہیں، جہاں وہ ہر گزرنے والے سے مانگتی ہیں. ان کے مرد کپڑوں سے بنے ہُوےُ گھُگُو گھوڑے بیچتے ہیں. یا جوگی بن کر لوگوں کو ” گیدڑ سنگھی ” کو کیمیا ثابت کر کے بیچنے کی کوشش کرتے ہیں. پلاسٹک سے بنے ہُوےُ ایک نگینے کو کوبرا سانپ کا ” منکا ” بتا کر بھاری قیمت وصول کرتے ہیں ، اس منکے کے خصوُصیت یہ بتاتے ہیں کہ اگر کسی کوٰ سانپ کاٹ لے تو اس منکے کو سانپ کے کاٹنے والی جگہ پر لگا دیا جاےُ تو یہ منکا سانپ کا سارا زہر چُوس لیتا ہے. ان کے کپڑے جوگیوں کی طرح گیروے رنگ کے ہوتے ہیں. ان میں سےبعض کے پاس ایک پٹاری میں ایک آدھ سانپ بھی ہوتا ہے جن کی موجُودگی میں لوگ انہیں کویُ پُہنچا ہُوا جوگی یا ماندری سمجھتے ہیں. یہ گلی گلی بین بجاتے ہوُےُ اپنا شکار تلاش کرتے ہیں.

نمبر 2 ؛ ماڈرن بھکاری:

بھکاریوں کی ماڈرن قسم بھی ملتی ہے. ان میں بھی کیُ اقسام کے پیشہ ور بھکاری ہیں.

الف === لکڑی سے بنے 3 پہیوں والی ہاتھ ریڑھی میں ایک لاغر سا چھوٹا بچّہ لیٹا ہوتا ہے ، اس ریڑھی میں ایک چھوٹا لاؤڈ سپیکر بمع بیٹری نصب ہوتا ہے، جس سے سپیکر کی پُوری اونچی آواز سے اس قسم کی اپیل نشر ہو رہی ہوتی ہے ” اللہ کے نام پر صدقہ دیتے جاو. غریب پر ترس کھاؤ. دُنیا میں ایک دو گے، آخرت میں دس ملیں گے. ” یا اسی قسم کی اپیل کو بہت اونچی آواز میں مسلسل دُہرایا جاتا ہے. اس آواز کا ریکارڈ شدہ ٹیپ مسلسل آٹو میٹک طریقہ پر بجتا رہتا ہے.

ب ===== اسی سے ملتی جُلتی ایک قسم کے بھکاری ( عمومآ بُوڑھے لوگ ) ایک چھوٹے بچے کے کندھے پر ہاتھ رکھّے ایک لاؤڈ سپیکر کے فُل والیوم پر بھیک کی اپیل کرتے ہیں. .     سپیکر کی آواز اتنی بلند ہوتی ہے کہ کانوں کے پردے پھٹنے لگتے ہیں.

پ ===== آپ بھی اس تجربے سے روزانہ دوچار ہوتے ہوں گے. یہ بھکاری عمومآ سڑک کے ٹریفک سگنل کے آس پاس موجود ہوتے ہیں. جیسے ہی ٹریفک سگنل سُرخ ہونے پر گاڑیاں رُکتی ہیں، یہ گاڑیوں پر ہلّہہ بول دیتے ہیں. گاڑیوں کے شیشے بجانا شروع کر دیتے ہیں. ہاتھ باندھ کر مانگتے ہیں. یہاں پر عمومآ عمر رسیدہ مرد اور عورتیں بھیک مانگتی ہیں.

ت ====== ایک نییُ نسل کے بھکاری بھی دیکھنے کو ملتے ہیں. یہ عمومآ بڑی سڑکوں کے چوراہوں پر ملتے ہیں. یہ تیسری نسل کے کھُسرے ہیں. رنگ برنگے کپڑے پہنے ہُوےُ، منہ پر بے تحاشہ میک اپ کیےُ ہُوےُ ، ٹریفک سگنل سُرخ ہونے پر گاڑیوں پر ہلّہ بول دیتے ہیں.

ٹ ====== آپ کبھی داتا دربار، لاہور کے سامنے سے گُزرے ہوں ، وہاں پر امام بارگاہ گامے شاہ سے لے کر داتا دربار تک دورویہ سڑک کے درمیان میں غلیظ کپڑے پہنے، 6 ماہ سے نہ نہاےُ ہُوےُ موالی چرسیوں نے مستقل ڈیرے ڈالے ہُوےُ ہیں. دربار میں حاضری دینے والے انہیں کچھ نہ کچھ خیرات دے دیتے ہیں، جسے وہ اپنا نشہ پُورا کرنے میں صرف کر دیتے ہیں. اگر کویُ غیر مُلکی یہاں سے گُزرے ، تو یہاں کا نقشہ دیکھ کر یقین کر لے گا کہ یہاں کی پُوری قوم چرسی اور بھکاری ہے. آج کل وہاں سے ان چرسیوں کو ہٹا دیا گیا ہے .

ث ====== اس قسم کے بھکاری ہر گھر کے دروازے پر دستک دیتے ہیں یا گھر کے باہر لگی گھنٹی بجاتے ہیں. مُنہ سے کچھ نہیں بولیں گے. گھر والے سمجھتے ہیں شاید کویُ مہمان آیا ہے. دروازہ کھُلتے ہی یہ اپنا دُکھڑا سُنانا شروع کر دیتے ہیں. اور کُچھ لے کر ہی ٹلتے ہیں.

ج ====== بھکاریوں کی یہ قسم مسجدوں یا مزاروں کے باہر نمازوں کے اوقات میں بھیک مانگتی نظر آتی ہے. خصُوصآ جمعہ کے دن یہ جمعہ کا خطبہ شروع ہونے سے پہلے ہی ڈیرے ڈال لیتے ہیں.

میں نے کیُ دفعہ ان بھکاریوں کو اپنی دن بھر کی کمایُ ، جو عمومآ سکّوں پر مشتمل ہوتی ہے، دُکان داروں کو دے کر اُن سے کرنسی نوٹ لیتا دیکھا ہے. ان کی کمایُ 500 روپے سے لے کر 800 روپے روزانہ تک ہوتی ہے. کُچھ زیادہ بھی کما لیتے ہوں گے. ان بھکاریوں میں زیادہ تر بوڑھے مرد اور عورتیں ہیں. عیسایُ خاندانوں کے لوگ جب بُوڑھے ہو جاتے ہیں ، تو اُن کے گھر والے انہیں بھیک مانگنے پر لگا دیتے ہیں. کیُ جوان مردوں اور عورتوں کو بھی بھیک مانگتے دیکھا گیا ہے.

بھکاریوں کا طریقہ واردات :

بھکاری مانگنے کے لیےُ مختلف طریقے اختیار کرتے ہیں.

نمبر 1 = بعض بھکاری مُنہ سے کچھ نہیں بولتے، صرف ہاتھ پھیلا دیتے ہیں.

نمبر 2 = اکثر بھکاری اپنا دُکھڑا سُنانے لگ جاتے ہیں. جس میں ان کی بیوی یا خاوند یا بچٰی بیمار ہوتی ہے. علاج کے لیےُ ان کے پاس پیسے نہیں ہیں، اور نوکری بھی کہیں نہیں ملتی.

نمبر 3 = ” میں دو دن سے بھُوکا ہُوں، یا ” بچے بھُوکے ہیں ” مانگنے کا یہ طریقہ زیادہ کارگر ہوتا ہے. لوگ بھُوکے کو کھانا کھلانا کار ثواب سمجھتے ہیں. اپنے گھر آتے ہُوےُ راستے میں پُرانے میلے کپڑے پہنے ایک شخص نے روک لیا. ” میں مزدُور آدمی ہُوں، آج مزدُوری نہیں ملی. صبح سے بھُوکا ہُوں، کھانا کھلا دیں. ” میں نے کہا آؤ، تمہیں کھانا کھلاتا ہُوں. وُہ کہنے لگا ، “کھانا نہ کھلاییُں، مجھے پیسے دے دیں ” پیسے بٹورنے کا یہ ایک خاص طریقہ ہے.

نمبر 4 = اکثر بھکاری نمازکے اوقات میں مسجد میں سب سے پہلی صف میں کھڑے ہو جاتے ہیں. نماز ختم ہوتے ہی اُتھ کر اپنا دُکھڑ سُنانا شرُوع کر دیتے ہیں. ان کے پاسس گھڑی ہُویُ کیُ داستانیں موجُود ہوتی ہیں. آخر میں ” تعاون ” کی اپیل کریں گے. اس طرح وہ ایک دن میں پانچ مُختلف مساجد میں اپنی کارگردگی دکھاتے ہیں.

حکومت کیا کر رہی ہے ؟.

بھکاری ہمارے مُلک میں ہی زیادہ پاےُ جاتے ہیں. میں دُنیا کے چاروں بر اعظم کے کیُ شہروں میں جا چُکا ہُوں.بھیک مانگنے کی لعنت بُہت کم دیکھی. اس لعنت کو ختم کرنے میں حکومت بے بس نظر آتی ہے. کیُ دفعہ ایسا ہُؤا کُچھ بھکاریوں کو حکومتی کارندے پکڑ کر لے گیےُ. انہیں غالبآ کسی دارالامان میں رکھا گیا. لیکن بھکاری اتنے زیادہ ہیں ، کہ اُن کے لیےُ بہت زیادہ دارالامان بنانا پڑیں گے.

گداگری کیسے ختم ہو !

گداگری ایک انتہایُ کراہت آمیز فعل ہے. پیشہ ور بھکاریوں کی غیرت مرچُکی ہوتی ہے، اور اُن پر کسی نصیحت کا اثر نہیں ہوتا. گداگر جو کُچھ کماتے ہیں وہ سراسر جھُوٹ بول کر کماتے ہیں. ایک گداگر عمُومآ 500 روپے سے 800 روپے ایک دن میں کما لیتا ہے. وہ بھی کسی جسمانی مشقّت کے بغیر. اب اتنی آسان کمایُ کو کون چھوڑتا ہے!. گداگری کی لعنت ختم کرنے کے لیےُ ایک جامع منصوبہ کی ضرورت ہے. مندرجہ ذیل تجاویز پر غور و خوض کر کے اسے قابل عمل بنایا جا سکتا ہے :

نمبر 1 – سب سے پہلے شہروں سے دُور مُخلتف جگہوں پر بھکاریوں کے لیے دو یا تین منزلہ پناہ گاہیں بناییُ جاییُں. تاکہ ایک ہی پناہ گاہ میں کافی بھکاریوں کو رکھا جا سکے. پناہ گاہ کے کمروں میں لوہے کے ڈبل بیڈ رکھے جایُیں. ہر پناہ گاہ میں کُچھ کمرے نہانے اور کپڑے دھونے کے لیےُ مختص ہؤں. ہر پناہ گاہ میں کھانے کا انتظام ہو، جہاں مقررہ اوقات میں کھانا ملے. بھکاریوں کے لٰیےُ ان کے بال کاٹنے کا بھی انتظام ہو. تین پناہ گاہوں میں سے درمیان والی پناہ گاہ میں ایک ڈسپینسری ہو، جہاں وقت مقررہ پر ایک کوالیفیُڈ ڈاکٹر وزٹ کیا کرے.

نمبر 2 – پناہ گاہوں میں داخل شدہ بھکاریوں کو باہر جانے کی اجازت نہ ہو.

نمبر 3 – بھکاریوں کو ہر وقت مصروف رکھا جاےُ. پہلے پہل انہیں سمجھایا جاےُ کہ بھیک مانگنا ایک کریہہ فعل ہے. اگلی سٹیج میں انہیں گھریلو دستکاریاں سکھایُ جاییُں.

نمبر 4 – رہایپُش پذیر بھکاریوں کے لیےُ ایک ضابطہ بنایا جاےُ. کہ صبح کس وقت اُٹھنا ہے، کب نہانا ہے، ناشتہ کب کرنا ہے، کلاس میں کس وقت جانا ہے. غرض ہر کام وقت پر ہو. کوشش کی جاےُ کہ وہ وقت کی پابندی کریں. کھیل کود کا بھی انتظام ہو

نمبر 5 – شروع شروع میں یہ سارا کام مشکل لگے گا. عادتیں بدلنے میں دیر لگتی ہے. کیُ بھکاری ان پناہ گاہوں سے فرار کی کوشش کر سکتے ہیں. کییُ شور مچاییُں گے کہ ہمیں چھوڑ دیا جاےُ.

نمبر 6 – آصل مسلہ ان بھکاریوں کا ہو گا جو نشہ کے عادی ہیں. جب انہیں نشہ نہیں ملے گا وہ شور مچاییُں گے، ہو سکتا ہے لڑنے مارنے پر تیار ہو جایُں.انہیں کنٹرول کرنے کے لیےُ بڑے صبر اور کسی مُفید حکمت عملی کی ضرورت ہے. اس سلسلے میں کسی ماہر منشیات سے مدد لی جا سکتی ہے.

نمبر 7 – یہ پروجیکٹ شروع کرنے سے پہلے اس کی منصُوبہ بندی ضرُوری ہے. ماہر تعلیم، ماہر نفسیات ، منشیات کے علاج کے ماہر اور منصوبہ بندی کے ماہر مل بیٹھ کر منصوبہ کی تمام جزیات کا جایُزہ لیں. ایک مکمل منصوبہ بنایُیں اور پھر اس پر عمل کیا جاےُ. بہ ظاہر یہ کام مشکل دکھایُ دیتا ہے. اس منصوبہ پر اخراجات بھی ہوں گے، روپیہ کی واپسی کی شکل میں آمدنی کی امید نہیں. لیکن یہ کیا کم ہوگا کہ بہت سارے بھکاری یہ ذلیل کام چھوڑنے کے قابل ہو سکیں گے.

ہر کام شروع میں مشکل نظر آتا ہے. مگر وہ کہتے ہیں ” چل پڑے تو کٹ ہی جاےُ گا سفر آہستہ آہستہ “. اللہ کا نام لے کر شروع کر دیں، اللہ مدد کرے گا.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *