Sipraworld4all

مرزا صاحباں- قصہ ناکام محبت کا، قسط نمبر 2 – Story of unsuccessful affection.

. مرزا صاحباں – قصّہ ناکام محبت کا،

Story of unsuccessful affection.
قسط نمبر 2

اسلام علیکم ، مرزا صاحباں، قصہ ناکام محبت کا، قسط نمبر 1 میں قصہ کے متعلق  ضروری معلومات دی گییُ تھیں. مرزا صاحباں کی کہانی کو سمجھنے کے لیےُ ان معلومات کا علم میں آنا ضروری ہے. امید کی جاتی ہے کہ آپ نے ان معلومات کو پسند کیا ہو گا. ان معلومات میں اگر کویُ کمی بیشی ہو تو ادارہ کو مطلع کریں. جسے آپ  . پوسٹ کے آخر میں کمنٹس میں لکھ سکتے ہیں. پیشگی شکریہ.

مرزا صاحباں کے قصّے کی ایک منفرد شان ہے. آپ نے یہ بات محسوس کی ہوگی کہ تقریبآ تمام مشہور رومانی داستانوں میں عورت کا نام پہلے اور مرد کا نام بعد میں آتا ہے. جیسے ہیر رانجھا، لیلے مجنوں، سسی پۃنّوں، سوہنی مہینوال، شیریں فرہاد وغیرہ. لیکن مرزا صاحباں کے قصّے میں مرد کا نام پہلے آتا ہے. یہ گویا اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ مرد کا نام بہر حال پہلے آنا چاہیےُ.

عنوانات =

نمبر 1 = صاحباں کی منگنی.
نمبر 2 = مرزا کی روانگی.

اب ہم ” مرزا صاحباں، قصہ ناکام محبت کا ” کو وہیں سے شروع کرتے ہیں جہاں پر سلسلہ ٹُوٹا تھا.

صاحباں کی منگنی.

مرزا اپنے گاؤں آ چکا تھا. مختلف مشاغل میں مشغول ہونے کے باوجود وہ صاحباں کی یاد کو اپنے دل سے نکال نہ سکا. ادھر صآحباں جوان ہو چکی تھی. صاحباں کی سوتیلی ماں نے صاحباں کے باپ کو راضی کر لیا کہ صاحباں کی شادی جلد کر دی جاے . چنانچہ ساندل بار کے ایک اور مشہور قبیلہ ” چدھڑ ” کے طاہر خان سے صاحباں کی منگنی کر دی گییُ.

ایک بیٹی ہونے کے ناطے صاحباں اہنے والدین کے آگے کچھ نہ بولی. اور کچھ دنوں کے بعد شادی کی تاریخ مقرر کر دی گییُ، صاحباں نے کمّوں برہمن کو مرزا کے پاس بھیجا تا کہ وہ مرزا کو سارے حالات بتلا آےُ. کمّوں برہمن کے ذریعے دونوں میں یہ طے ہُوا کہ جس رات صاحباں کی بارات آےُ گی، اسی رات مرزا بھی وہاں آےُ گا اور دونوں چوری چھُپے صاحباں کے گاؤں سے بھاگ کر دانا آباد چلے جاییُں گے.

نمبر 2 = مرزا کی روانگی.

صاحباں کی شادی کا دن آ گیا. مرزا نے اپنی گھوڑی پر زین کسی. مرزا اس گھوڑی کو ” نیلی ” کہ کر پُکارتا تھا. کیونکہ اس کے رنگ میں ہلکے نیلے رنگ کی آمیزش تھی. گھر سے نکلتے وقت اُس کی ماں نے پُوچھا ” کہاں جا رہے ہو ؟‌” مرزا نے جواب دیا ” صاحباں کو لینے جا رہا ہُوں “. اُس کی ماں کو مرزا اور صاحباں کی محبت کا پتہ تھا. اور وہ اس بارے میں بڑی فکرمند رہتی تھی. چند ہی روز پہلے اس نے ایک خواب دیکھا تھا. وہ مرزا کو نصیحت کرتے ہُوےُ کہتی ہے :

چڑھدے مرزے خان نوں ، بھٹ وگایا ماں
کی کرنا ایں مرزا مُنڈیا، پان لگوں کی ناں
ساڈا ون مُڈھوں پٹ سٹیا، جیہدی وچ ویہڑے دے چھاں
میرے ہتھّوں گاگر ڈگ پییُ، اوہدی بُگھنیوں تُت گییُ لاں
میرے سر تے صحنک روٹیاں دی، اُتّوں اُڈ گیا دسترخواں
الّاں جھراٹاں ماریاں ، اوہ لے چڑھیاں اسمان
میں ول ول پلُّو پھیر دی، اوہ کر کر ٹُکڑے کھان
خان کھیوے دیاں ٹاہلیاں، ٹھنڈی اونہاں دی چھاں
ساڈا شیر بیٹھا چُپ وٹ کے، اونہوں وہر کھلوتی گاں

اردو ترجمہ =
مرزا کی ماں اُسے ناراض ہونے لگی .
لڑکے ! تم اپنے خاندان کو بدنام کرنے پر کیوں تُلے ہو.
یہ کام کر کے تم گویا اپنے صحن میں لگے درخت کو اُکھاڑ رہے ہو. جس کی چھاؤں تلے ہم بیٹھتے ہیں.
مین نے خواب میں دیکھا کہ میرے ہاتھ میں پکڑے پانی کے برتن کی رسّی ٹوٹ گییُ اور برتن زمین پر گر پڑا، اور سارا پانی زمین پر بہ گیا.
میری سر پر روٹیوں سے بھری چنگیر ہے ، جس کا دستر خوان ہوا سے اُڑ گیا. چیلوں نے جھپٹ جھپٹ کر روٹیاں اُٹھا لیں، اور آسمان کی طرف پرواز کر گییُں
میں اپنے دوپٹّہ کے پلّو انہیں ہٹاتی رہی،وہ ان روٹیوں کے ٹکڑے کر کے کھاتی رہیں.
(پھر میں نے دیکھا) کھیوے خآن کی زمینوں میں لگے شیشم کے درخت ہیں جن کی چھاؤں بڑی گھنیری ہے.
ان درختوں کی چھاؤں میں ہمارا شیر چُپ بیٹھا ہے، اور ایک گاےُ اُسے دلیری سے آنکھیں دکھا رہی ہے.

مرزا کی بہن چھتّی نے مرزا سے پوچھ ” بھایُ کہاں جا رہے ہو ؟ ” اتفاق سے مرزا کی بہن چھتّی کی بارات بھی دوسرے روز آ رہی تھی . چھتّی نے مرزا سے کہا :

چڑھدے مرزے خان نوں ، چھتّی کرے سوال
ہٹ کے بیٹھیں مرزیا، گھر وچ کریں صلاح
پلنگ دے اُتّے بہہ کے ، ہتھّں میرے کاج سنوار
بھلکے آون دے بھتّی سندل بار دے ، صاحب سندی یار

اردو ترجمہ:

مرزا خان کو اس کی بہن چھتّی رُک جانے کا کہہ رہی ہے .
ہم گھر میں بیٹھ کر صلاح مشورہ کریں گے.
پلنگ پر بیٹھ کر تم میری شادی کے کپڑوں کے کاج اپنے ہاتھوں سے بنانا.
کل سندل بار کے بھٹّی میری دولی لے جانے آ رہے ہیں. اس موقع پر تم کہاں جا رہے ہو.

مرزے کی ماں اُسے مزید سمجھاتی ہے :

چڑھدے مرزے خان نوں، متّاں دیوے ماں
بُرے سیالاں دے معاملے، بُری سیالاں دی راہ
بُریاں سیالاں دیاں عورتاں، جادُو دیندیاں پا
کڈھ کلیجے کھاندیاں ، میرے سر وچ کھیہہ نہ پا
رن دی خاطر چلیا ایں، آویں جان گنوا

اردو ترجمہ :

جاتے ہُوےُ مرزا کو اُس کی ماں نصیحت کر رہی ہے.
سیالوں کے معاملات بہت بُرے ہیں، یہ بُرے راستے پر چلتے ہیں.
سیال عورتیں نُری ہوتی ہیں ، جادو کر کے قبضہ میں کر لیتی ہیں.
ان کی عورتیں مردوں کا کلیجہ نکال کر کھا جاتی ہیں، میری مانو میرے سر میں خاک نہ ڈالو.
تُم ایک عورت کی خاطر اپنی جان نہ گنواؤ.

نوٹ ؛ کہانی کا یہ حصہ شاعر کی اپنی راےُ ہے ، ادارہ اس سے متفق نہیں.

مرزا کے سر پر عشق کا بھُوت سوار تھا.اُس نے اپنی ماں کی بات نہ مانی اور گھوڑی پر بیٹھ کر چل دیا. تھوڑی دُور چلا تو اُسے اپنا بھایُ سرجا ملا، مرزا نے اُسے بتایا کہ وہ صاحباں کو لینے جا رہا ہے. سرجا بھی اُسے نصیحت کرتا ہے :

چڑھدے نرزے خان نوں سرجا دیندا مت.
بھٹ رنّاں دی دوستی، ماری جنہاں دی مت
ہس ہس کر لانی یاریان، رو کے دیندیاں دس
سامنے یار کُہاندیاں، دھون تے دے کے لت
لکھّیں ہتھ نہ آوندی، عزّت منداں دی پت

اردو ترجمہ :

مرزا کو اس کا بھایُ سرجا نصیحت کرتا ہے کہ
بھاڑ میں جاےُ عورتوں کی دوستی، یہ تو عقل سے پیدل ہوتی ہیں. پہلے تو ہنس ہنس کر پیار جتاتی ہیں، بعد میں روتی ہُویُ کہتی ہیں ، میں مجبُور ہُوں، کچھ کر نہیں سکتی.
اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے محبُوب کو قتل کرا دیتی ہیں.
صاحباں کا خیال اپنے دل سے نکال دو، بے عزّت ہو گے، اور گیُ ہُویُ عزّت لاکھوں خرچ کر کے بھی واپس نہیں ملتی.

مرزا اس کی بات بھی نہیں مانتا. راستے میں اُسے ایک برہمن ملتا ہے یہ برہمن مندروں میں پُوجا پاٹ کے علاوہ نجُوم اور دست شناسی میں بھی کچھ شُد بُد رکھتے تھے. عام لوگ ان سے فال نکلواتے اور قسمت کا حال پُوچھتے تھے. بعض روایات کے مطابق یہ شخص پیلو شاعر تھا. لیکن یہ بات وثُوق سے نہیں کہی جا سکتی. مرزا نے اس سے کہا ” میں ایک کام سے جا رہا ہُوں، حساب لگا کر بتاؤ کہ میں اس میں کامیاب ہوُں گا یا نہیں . برہمن نے اُسے اشاروں کناؤں میں بتایا :

کانجن بدّھا تکلا، تکلا بدھّا تیر
لٹھ پلانا میلیا ، کرڑے گھت زنجیر
کمیاں مُڈھ دھتُوریاں جیوں بادشاہ مُڈھ وزیر
کُتّا ہٹ ہٹ کر رہیا، جویں در وچ کھڑا فقیر
ٹنڈاں کیرم کیریاں، بھر بھر ڈوہلن نیر

اردو ترجمہ:

کانجن کو تیر نے چھید ڈالا.
لٹھ اور ڈھول ایسے بندھے ہیں جیسے زنجیر سے جکڑے ہوں.
ڈھول کے ساتھ دھتوریاں ( دندانے ) ایسے اکٹھے رہتے ہیں جیسے بادشاھ اور وزیر اکٹھے رہتے ہیں.
کُتّا ہٹ ہٹ کر رہا ہے جیسے دروازہ پر کویُ فقیر کھڑا ہے.
رہٹ کی ٹنڈیں چکر میں بندھی ہُویُ اپنے اندر پانی بھر بھر کر لاتی ہیں اور اُنڈیل دیتی ہیں اور پانی لانے کے لیےُ پھر نیچے چلی جاتی ہیں.

یہاں واقعے کی نسبت سے صرف پانچ مصرعے درج کیےُ ہیں اصل میں یہاں بہت سے مصرعے ہیں جو یہ ہیں؛

چنّے آمنے سامنے ، کانجن سدھّی تیر
کانجن نوں وہن گیا مکڑا، مکڑے نوں وھن گیا تیر
بھرونّی وچاری کی کرے، جیہدی دُھنّی تے وہندا تیر
ڈھگیاں گل ہل پنجالی، جیوں شیراں گل زنجیر
ڈھول تے چکلی انج ملدے، جیوں بھیناں نوں ملدے ویر
کُتّا ہٹ ہٹ کر رہیا جیوں در وچ کھڑا فقیر
لتھ تے پڑانا انج ملدے ، جیوں کُڑیاں وچ کھیڈے ہیر
گاہدی والا انج بیٹھا، جیوں بیٹھا تخت امیر
ٹنڈاں کرم کیریاں ، بھر بھر ڈوہلن نیر
پاڑچھا پانی انج جھپدا، جیوں بہمن جھپدا کھیر
نسار پانی انج چھکدی، جیوں نکّو چھُتّے نکیر
آڈاں ڈنگ پھڑنگیاں ، پانی سدھّا تیر
پانی والا انج پھردا، جیوں در در پھرے فقیر

اردو ترجمہ :

چنّے آمنے سامنے کھڑے ہیں . ان پر کانجن تیر کی طرح سیدھی رکھی ہُویُ ہے.
کانجن میں مکڑے کی طرح سوراخ ہے، جس میں سے تیر نکلا ہُوا ہے. ( کانجن کے درمیان میں سوراخ کر کے تقریبآ 5 فُٹ لمبی لکڑی ڈالی جاتی ہے جو ایک طرف سے موٹی ہوتی ہے، جس میں سُوراخ کرکے ڈھول سے جُڑا ہُوا تیر آرپار کیا جاتا ہے. اس 5 فٹ لمبی لکڑی کی شکل مکڑے جیسی ہونے کی وجہ سے اسے مکڑا کہتے ہیں. )
بھرونّی بیچاری کیا کرے جس کی ناف پر تیر چلتا رہتا ہے. ( ڈھول اور تیر کا وزن وزن سہارنے کے لیےُ ایک مضبوط اور موٹی لکڑی رکھی جاتی ہے ، اسے ” بھرونّی ” کہتے ہیں . تیر کو اپنی جگہ پر قایُم رکھنے کے لیےُ بھرونّی میں ایک چھوٹا سا گڑھا بنایا جاتا ہے جو اُوپر سے کھُلا اور اور نیچے سے تنگ ہوتا ہے . تیر کا مخرُوطی سرا اس میں پھنسا دیا جاتا ہے. ناف کی شکل والے اس گڑھے کو ” چُوتھی ” کہتے ہیں ) .

بیلوں کے گلے میں ” پنجالی ” ہے جیسے شیر کے گلے میں پٹا اور زنجیر ہو.
ڈھول اور چکلی آپس میں اس طرح ملتے ہیں جیسے بھایُ اپنی بہنوں سے مل رہے ہوں.
رہٹ کا کُتّا ہٹ ہٹ کی آواز پیدا کر رہا ہے ، جیسے دروازے پر کھڑے فقیر کو ہٹ جانے کا کہا جا رہا ہو.
لٹھ اور پڑانا، جیسے سہیلیوں میں ہیر کھیل رہی ہو.
گاہدی پر بیٹھا آدمی ، تخت پر بیٹھا امیر لگتا ہے.
پانی سے بھری ٹنڈیں پانی ایسے اُنڈیل رہی ہیں جیسے آنکھوں سے چھم چھم آنسُو بہ رہے ہوں.
پاڑچھا پانی کو مُنہ میں اس طرح لیتا ہے جیسے کویُ برہمن منہ بھر کر کھیر کھا رہا ہو.
نسار میں پانی اس طرح بہتا ہے جیسے ناک سے نکسیر پھوٹنے پر خُون بہتا ہے.
آڈیں ٹیڑھی میڑھی ہیں ، لیکن ان میں بہنے والا پانی تیر کی ظرح سیدھا ہے.( کنویُیں کے پانی کی گزرگاہ کو ” آڈ ” کہتے ہیں ) .
کھیتوں کو پانی لگانے والا کبھی ادھر جاتا ہے، کبھی اُدھر. جیسے مانگنے والا فقیر ہر گھر کے دروازے پر جاتا ہے.

مندرجہ بالا اشعار کو سمجھنے کے لیےُ کیویُں اور رہٹ کی بناوت کو مد نظر رکھیےُ.
رہٹ میں تقریبآ 10 فُٹ اونچی اور 10 فٹ لمبی دو دیواریں بنایُ جاتی ہیں ، جن کا درمیانی فاصلہ تقریبآ 30 فت ہوتا ہے. ان دیواروں کو ” چنّا ” کہتے ہیں.
ان دیواروں کے اُوپر درمیان میں ایک مضبوط اور موٹی لکڑی ( عمومآ شیشم ) رکھی جاتی ہے، اسے ” کانجن ” کہتے ہیں. کانجن کے درمیان میں گول سوراخ کر لیا جاتا ہے .
ایک مضبوط 10 فت لمبی لکڑی کے اوپر والا ھصہ گول، درمیان میں چوکور اور نیچے والا حصّہ مخروطی ہوتا ہی اسے ” تیر ” کہتے ہیں.
6 سے 8 فٹ قطر کا ایک گول پہیّہ جس کی موتای 3 سے 4 فٹ ہوتی ہے ، اسے ” ڈھول ” کہتے ہیں.
ڈھول کے چاروں طرف 4 سے 4 – 6 انچ کے مستطیل سوراخ ہوتے ہیں. جن میں ” چکلی ” کے دندانے پھنستے ہیں.
ڈھول کے درمیان ایک چوکور سوراخ میں سے تیر کو اس طرح گزارا جاتا ہے کہ ڈھول زمین پر نہیں گرتا. اس کے ساتھ ایک گول پہیّہ ہوتا ہے جس کے ایک طرف 6 – 8 انچ لمبے اور تقریبآ 3-4 انچ موٹے دندانے ہوتے ہیں. جنہیں دھتُوریاں کہتے ہیں. اس گول پہیّہ اور دھتُوریوں کے مجموعہ کو ” چکلی ” کہتے ہیں. یہ دھتوریاں ڈھول میں بنے سوراخوں میں پھنستی ہیں. یہ چکلی اس طرح رکھی جاتی ہے کہ اس کا نصف حصّہ زمین کے اندر ہوتا ہے. اور اس کے دندانے ڈھول میں بنے سوراخوں میں بآسانی داخل اور نکل سکیں.
اس چکلی کے درمیاں گول، مضبوط اور لمبی لکڑی ہوتی ہے جسے ” لٹھ ” کہتے ہیں. یہ لٹھ کنؤیں کے اوپر بنے ہُوےُ پہییُے ، جسے ” بیڑ ” کہتے ہیں، کے ساتھ جُڑی ہوتی ہے.
بڑے ڈھول اور تیر کے ساتھ ایک چوکور لمبی لکری باندھی جاتی ہے، جس کے آخری سرے پر بیٹھنے کے لیےُ جگہ بنایُ جاتی ہے. اسے ” گادھی ” کہتے ہیں. اس گادھی کے آگے بیل جوتتے ہیں.
گادھی چونکہ ڈھول کے ساتھ بندھی ہوتی ہے ، بیلوں کے چلنے سے گادھی کے ساتھ بندھا ہُوا ڈھول گھومتا ہے، ڈھول کے سوراخوں میں چکلی کے دندانے داخل ہوتے ہیں اور ڈھول کے ساتھ چکلی بھئی گھُومتی ہے، جو کنویُیں کے بیڑ کو چلاتی ہے
بیڑ کے اوپر ” ماہل ” چلتی ہے جس کے ساتھ ” ٹنڈیں ” ( مٹّی سے بنے اور پکاےُ ہوےُ ڈول ) بندھی ہوتی ہیں جو رہٹ کے چلنے پر کنویُیں سے پانی لاتی ہیں اور اُوپر آ کر ناند میں اُنڈیل دیتی ہیں.
چکلی کے ساتھ زمینی سطح کے برابر انگریزی ہندسے 4 کی طرح کی ایک روک لگایُ جاتی ہے اُسے ” کُتّا ” کہتے ہیں. یہ رہٹ کو اُلٹا پھرنے سے روکتا ہے.

سارے ماحول کو مدنظر رکھتے ہُوےُ اس تنبیہ کو دیکھیےُ جو برہمن یا پیلو شاعر نے مرزا کو ڈھکے چھپے الفاظ میں دی. اس نے مرزا کو صاف الفاظ میں تو نہ کہا کہ تمہاری موت تمہیں وہاں لے جا رہی ہے اور صاف کہ دیا کہ ” ٹنڈاں کرم کیریاں بھر بھر ڈوہلن نیر ” .

بعض لوگوں کو ان اشعار میں ہندوؤں کے مسُلہ تناسخ کا فلسفہ نظر آتا ہے. وہ پہلے چار اشعار کو دُنیا، رشتہ داروں اور دنیا کے دیگر ہنگاموں سے تشبیہ دیتے ہیں. اور آخری پانچویں شعر سے یہ مراد لیتے ہیں کہ انسان دنیا میں آتا ہے ، اپنی عُمر گزارتا ہے اور سب کچھ چھوڑ کر مر جاتا ہے. اور دوبارہ جنم لے کر دنیا میں آتا ہے. جس طرح ٹنڈیں اپنا سارا پانی ناند میں گرا کر گویا مۃردہ ہو کر کنوییں میں چلی جاتی ہیں اور وہاں سے پانی لے کر یا دوسرے لفظوں میں دوبارہ جنم لے کر اُوپر آتی ہیں اور اپنا پانی گرا کر پھر کنویُں میں چلی جاتی ہیں اور اس طرح یہ چکّر چلتا رہتا ہے.

مرزا صاحباں، قصّہ ناکام محبت کا، قسط نمبر 2 کو یہاں ختم کرتے ہیں. قسط نمبر 3 کا انتظار فرمایےُ.

جاری ہے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *