Sipraworld4all

ہمارے سُلگتے مسایُل- قسط 3 – اندھی عقیدت – Our burning issues – Blind faith.

ہمارے سُلگتے مسایُل- قسط 3 – اندھی عقیدت
Our burning issues, Part 3, Blind faith

اندھی عقیدت
.Blind Faith

  اندھی عقیدت ایسا ھی ہے جیسے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں کسی راستے کو تلاش کرنا. مذہبی عقایُد کے سلسلے میں صحیح عقیدہ اور بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ   قیامت کے دن ہمارے عقیدے کا صحیح مواخذہ اُس خُداےُ کریم کے ہاتھ میں ہو گا جو ہر چیز کا علم رکھتا ہے ، اور اس سے کویُ چیز چھُپی ہُویُ نہیں ہوگی. اگر ہمارا عقیدہ غلط ہوگا تو ہمارا کویُ عُذر قبُول نہیں ہوگا. نہ ہم کسی دوسرے کو ہمارے عملوں کا ذمہ دار ٹھہرا سکیں گے. حقیقت یہ ہے کہ ہمارے کییُ بھایُیوں کے دینی عقایُد انہیں غلط راستے پر لے جا رہے ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ اُن کا مُرشد ایک مُرشد کامل ہے جو انہیں قیامت کے دن ان کے گناہ بخشوا دے گا ( استغفراللہ ). اس سلسلے کے دوسری قسط ” ہمارے سلگتے مسایُل، قسط 2 ، اخلاقی گراوٹ ” ضرور پڑھیےُ. اس اندھی عقیدت کے بارے میں ہم مزید بات کرتے ہیں،

عنوانات:

اندھی عقیدت
ہمارے نام.
اپنا اپنا عمل.
ذرا سوچیےُ.

اندھی عقیدت
Blind Faith

اللہ تعالے نے ہر انسان کو سمجھ بُوجھ اور عقل عطا کی ہے. اللہ تعالے نے انسانوں کو سیدھا راستہ دکھانے کے لیے مختلف اوقات میں اپنے پیغمبر بھیجے. تا کہ وہ انسانوں کو سیدھا راستہ دکھاییُں. بُہت کم لوگوں نے اُن کی تعلیمات پر عمل کیا. ذیادہ تر لوگوں نے اُن پیغمبروں کی مُخالفت کی ، ان میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو زیادہ دولت مند تھے. وہ یہ سمجھتے تھے کہ ہم غریب لوگوں سے اُونچے ہیں اور ہم اور غریب لوگ ایک ہی صف میں نہیں بیٹھ سکتے. اس طرح تو ہماری توہیں ہوگی. اللہ تعالے نے پہلے پیغمبروں کی تعلیمات پر عمل نہ کرنے اور انہیں تکالیف پہنچانے والوں کو مختلف عذاب کے ذریعے نیست و نابُود کر دیا. سب سے سخت عذاب نُوح علیہ السلام کی قوم پر نازل کیا گیا. نوح علیہ السلام اپنی قوم کو 950 سال سے زیادہ تک سمجھاتے رہے کہ بُت پرستی اور غلط عقایُد کو چھوڑ کر ایک خُدا کو مانو ، اور اُس کے احکامات پر عمل کرو. لیکن تھوڑے سے لوگوں کے سوا کسی نے بھی نُوح علیہ السلام کی بات پر کان نہ دھرا. یہ لوگ اندھی عقیدت میں اُن بُتوں کو پُوجتے رہے ، جنہین اُن کے آبا و اجداد پُوجتے تھے. مایُوس ہو کر نُوح علیہ ا لسلام نے اللہ تعالے سے دُعا کی کہ ” اے میرے اللہ، میں اپنی قوم کو بڑے عرصہ تک سمجھاتا رہا، میں نے انہیں دن کو سمجھایا، راتوں میں سمجھایا، اکیلے اور جمگھٹوں میں سمجھایا، لیکن چند لوگوں کے سوا میری قوم کے کسی فرد نے میری باتوں پر کان نہ دھرا. اے میرے اللہ، ان کافروں پر ایسا عذاب نازل فرما کہ اس دُنیا پر موجود ہر کافر اس کی لپیٹ میں آ جاےُ. کویُ کافر زندہ نہ بچے. اگر کویُ کافر زندہ بچا تو وہ تیری مخلوق کو گمراہ کرے گا. ” اللہ تعالے نے اپنے پیغمبر کی دُعا قبُول کی. اس سے پہلے نُوح علیہ ا لسلام اللہ کے حُکم ہر لکڑی کی ایک بہت بڑی کشتی تیار کر چُکے تھے. انہیں حُکم دیا کہ عذاب شروع ہونے پر تمام مسلمانوں کو کشتی میں بٹھا لو. جانوروں کے مقررہ تعداد میں جوڑے رکھ لینے کا حکم دیا. کافی دنوں تک کام آنے کے لیےُ اجناس رکھ لیں. پھر اللہ کے حُکم سے تنُور سے پانی اُبلنا شروع ہو گیا. اللہ کے حُکم سے بادل بھی برسنے لگے. اور اتنے برسے کہ دُنیا کے تمام پہاڑوں کی چوٹیاں پانی میں ڈُوب گییُں. تمام کافر اس عذاب ( اسے طوفان نُوح بھی کہتے ہیں ) میں ڈُوب کر مر گیےُ. یہ تھی اندھی عقیدت کی سزا. صرف وہ لوگ زندہ بچے جو نُوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں سوار تھے. یہ کشتی پانی میں 150 دن تک چلتی رہی. ( قصص لا نبیا – ابن کثیر، صفحہ 114 ). اس کشتی میں نُوح علیہ السلام کے تین بیٹے حام، سام اور یافت بھی سوار تھے. اس وقت دُنیا میں آباد تمام لوگ انہی تین افراد کی نسل سے ہیں. قصص الانبیا علیہ االسلام، صفحہ 112 – تالیف امام ابن کثیر، مترجم ابُو ثوبان سیّد اسد اللہ اسد،
اصل میں نُوح علیہ السلام کی قوم اپنے آباؤ اجداد کے پانچ پرہیزگار لوگوں کے بُت بنا کر اُن کی پُوجا کرتے تھے. ان کے نام ود، یغُوث، یعوُق، سواّع اور نسر تھے. اُن کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو انہیں پُوجتے دیکھا ہے . ااس لیےُ ہم بھی انہیں پُوجتے اور ان سے مُرادیں مانگتے ہیں. یہ ہے اندھی عقیدت.

ہمارے مُلک میں اندھی عقیدت کی شکل دُوسری ہے. لوگ نماز میں ایّاک نعبُدُ و ایّا ک نستعیں. ” اے اللہ. ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تُجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں.” پڑھتے ہیں. لیکن مسجد سے نکلنے کے بعد اپنے مرشد کے آستانے پر پہنچ کر اپنے مرشد کے قدموں کو ہاتھ لگا کر برکت کے لیےُ اپنے مُنہ پر پھیر لیتے ہیں. اور پھر اپنے مرشد کو مشکل کُشا سمجھتے ہُوےُ اپنی مشکل حل کرنے کے لیےُ مدد مانگتے ہیں . یہ اندھی عقیدت کافری نہیں تو اور کیا ہے ؟.

آپ نے ایسے کییُ “پیروں ” کے گھر کے باہرلکھا ہؤا دیکھا اور پڑھا ہوگا ” آستانہ عالیہ ………….. عالمگیری، قادری، علوی، چشتی، سہروردی، ” وغیرہ وغیرہ. ہم نماز پڑھتے ہُوےُ سجدہ میں اللہ کی تسبیح پڑھتے ہیں ” سُبحان ربی الاعلے ” یعنی اے ہمارے سب سے بڑے رب.” اب ان پیر حضرات کا گھر سب سے اعلے گھر کیسے بن گیا ؟. یہ اندھی عقیدت کی ایک مثال ہے.

آج کل ایک نیا مُرشد ظہور پذیر ہُؤا ہے جو خیر سے اپنی بیوی کو مُرشد کہہ کر پُکارتا ہے. اس کا دوسرا نام “یُو ٹرن ” ہے. اس نے اپنے مُلک کے ساتھ وُہ کیا ہے جو ہمارے ازلی دُشمن انڈیا نے بھی نہیں کیا. آج کل جیل میں اپنے کرتوتوں کی سزا بھُگت رہا ہے. اس کی سیاسی پارٹی کے لوگ اسے مُرشد مانتے ہیں، لیکن اس کے کرتُوت نہیں دیکھتے. یہ ہے اندھی عقیدت.

ہمارے نام.

یہ سن1953 عیسوی کی بات ہے. ًمیں اس وقت شبلی ہایُ سکول ، گڑھی شاہُو، لاہور میں پڑھتا تھا، ہمارے ساتھ پڑھنے والے ایک طالب علم کا نام مسیح اللہ تھا. وہ خیر سے مسلمان تھا. ہمارے ٹیچر حیران تھے کہ اس طالب علم کے والدین نے اس کا نام مسیح اللہ کیا سوچ کر رکھا.
ًمیں سعودی عرب کی آیُل کمپنی ” ارامکو ” میں دس سال تک ملازمت کرتا رہا. ہمیں ہر سال 28 دن کی چھُٹّی ملتی تھی. ایک دفعہ میں چھُٹّی کاٹ کر واپس اپنی ڈیوٹی پر پہنچنے کے لیےُ ایر پورٹ پر لایُن میں کھڑا تھا. میرے آگے کھڑے لڑکے نے اپنی باری آنے پر اپنا پاسپورٹ کاؤنٹر پر بیٹھے سعودی کو دیا. اُس نے پوچھا ” تُمہارا نام کیا ہے ” اُس نے کہا ” محمد اکبر ” کاؤنٹر پر بیٹھےسعودی نے فورآ کہا ” لا، اللہ اکبر ” ( نہیں، اللہ سب سے بڑا ہے ” ). ہم لوگ اپنے بچّوں کے نام رکھتے ہُوےُ یہ نہیں دیکھتے کہ بچّے کے رکھّے جانے والے نام کا مطلب کیا ہے. سعودی عرب کا سفارت خانہ ایسے شخص کو ویزہ نہیں دیتا جس کا نام اللہ سے شروع ہو، جیسے اللہ بخش ، اللہ داد، اللہ وسایا، اللہ یار، اللہ دتّہ، اللہ دین وغیرہ. سعودی عرب جانے والے اس بات کو دھیان میں رکھیں.

اپنا اپنا عمل.

ہر شخص اپنے کیےُ کا پھل کھاتا ہے. بعض دفعہ ہمیں اپنے کیےُ کا پھل ( اچھّا یا بُرا ) اسی دُنیا میں مل جاتا ہے. لیکن بعض اعمال ایسے ہیں جن کا پھل ہمیں قیامت کے دن ملے گا.
اللہ تعالے دُنیا میں اپنے پیغمبروں کو بھیجتا رہا تا کہ وہ لوگوں کو یہ سمجھایُں کہ اللہ کا کویُ شریک نہیں. اور صرف اُسی کی عبادت کرنی چاہیےُ. اللہ کے آخری رسُول نے بھی یہی پیغام دنیا کے لوگوں تک پہنچایا. اللہ کے آخری رسُول کی رحلت کے تقریبآ 400 سال بعد تک اسلام اپنی صحیح تعلیمات پر قایُم رہا. پھر بعض اسلامی عقایُد میں اختلاف پیدا ہو گےُ. اور ان کے گروہ بن گیےُ. ان کے نام حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی ہیں. یہ چاروں گروہ اپنے آپ کو سُنّی کہتے ہیں. یہ عقایُد رکھنے والے لوگ زیادہ تر عربی ممالک میں ہیں. اپنے ملک پاکستان میں تو بے شمار فرقے ہیں اور سب ہی اپنے آپ کو صحیح مُسلم سمجھتے ہیں. ان فرقوں میں حنفی، دیوبندی، اہل حدیث اور بریلوی شامل ہیں شیعہ حضرات اپنے آپ کو ایک علیحدہ فرقہ شمار کرتے ہیں. بریلوی فرقہ کی ابتدا انگریزی حکومت کے دوران ہُویُ. یہ لوگ پیروں فقیروں کے بڑے معتقد ہوتے ہیں. ان کے عقایُد کو دیکھیں تو یُوں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے آخری رسُول کو اللہ سے اُوپر سمجھتے ہیں. ان کی ایک مسجد میں جمعہ کے دن ایک شخص نعت پڑھ رہا تھا، اس نعت کا ایک شعر یہ تھا

خُدا جس کو پکڑے، چھُڑا لے محمد
محمد کے پکڑے ، چھُڑا کویُ نہیں سکتا.

استغفراللہ.

بریلوی عقیدہ کے لوگ فوت شدہ بزرگان دین کو مشکل کُشا سمجھتے ہیں اور ان سے مدد مانگتے ہیں. ایک فوت شُدہ اسلامی بزرگ سیّد عبدالقادر جیلانی ان کے مشہور مشکل کشا ہیں. جن سے یہ اپنی مرادیں مانگتے ہیں. فلمی دُنیا کے لوگوں نے بریلوی  عقیدے کو خوب بڑھاوا دیا ہے. چند مثالیں پیش ہیں، جو اندھی عقیدت کی عُمدہ مثالیں ہیں.

ایک فلم کی ہیرویُن بری امام کی قبر پر یُوں فریاد کرتی ہے :

بری بری امام بری
میری کھوٹی قسمت کرو کھری

ایک دوسری فلم میں ہیرویُن پاک پتن میں مزار پر یُوں فریاد کر رہی ہوتی ہے :

پاک پتن تے آن کھلوتی ، بیڑی میری بنّے لا
دُوروں سُن کے آیُ آں میں، ایس پتن دا تُوں ایں ملاح

ایک تیسری فلم مٰیں ہیرویُن شہباز قلندر کے مزار پر آہ و زاری کر رہی ہے :

شہباز کرے پرواز ، تے جانے راز دلاں دے

چوتھی فلم میں موج دریا ولی کے مزار پر یُوں قوالی ہو رہی ہے :

اللہُ الصمد دم ساورے ولی
میراں موج دا دریا کھولو رحم دی گلی

یہ چند مثالیں ہیں جن میں مدد کے لیےُ اللہ کی بجاےُ اللہ کے کسی بندے کو پُکارا جا رہا ہے. اللہ تعالے سب گُناہ بخش سکتا ہے لیکن شرک کو ہرگز نہیں بخشے گا. یہ بات اللہ تعالے نے اپنے پیغام قُرآن میں صاف طور پر بتا دی ہے.

ذرا سوچیُے

ہر شخص اپنے اپنے اعمال کا جواب دہ ہے. اور یہ بات ہر شخص جانتا ہے. لیکن پھر بھی شیطان کے بہکاوے میں آ جاتا ہے. یہ شیطانی کام جیسے سمگلنگ، ذخیرہ اندوزی، چوری، ڈاکہ زنی، ناحق قتل، زنا بالجبر، بُت پرستی، دغا ، فریب، رشوت، جھوٹی گواھی، نا انصافی، سُود لینا اور دینا، خودکشی، جھوٹ بول کر اپنا مال بیچنا، کسی کی زمین یا مکان پر ناجایُز قنبضہ، دھوکا دینا، اپنے فرالُض میں کوتاہی، بجلی چوری کرنا، کسی چیز کی ناجایُز طور پر زیادہ قیمت لینا، غیبت، ناجایُز تہمت، امانت میں خیانت، وعدہ خلافی، گالی دینا وغیرہ سب شیطانی کام ہیں. اور شیطان کا ٹھکانا جہنم ہے جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیےُ رہے گا.

ذرا سوچیےُ! یہ جو ہم مال ناجایُز ذرایُع سے حاصل کر رہے ہیں، قیامت کے دن ہم اللہ تعالے کو اس بارے میں کیا جواب دیں گے!. وہاں تو نہ رشوت چلے گی نہ کسی کی سفارش. یہ ناجایُز طور پر حاصل کیا گیا مال آگ کی شکل میں ہمارے گلے میں طوق کی طرح ڈال دیا جاےُ گا.

اپنی عاقبت کی فکر کیجیےُ.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *